Urdu book · اوراقِ حکمت

اوراقِ حکمت

Urdu book, p. 42

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ دو لفظ میں صحت اور تندرستی کا خلاصہ ہے۔ اگر آدمی کھانے پینے میں احتیاط کا طریقہ اختیار کرے ۔ اور معدہ میں ضرورت سے زیادہ غذا نہ بھرے، تو وہ، ان شاء اللہ، مستقل طور پر صحت مند رہے گا۔ اس کو نہ ڈاکٹروں کی ضرورت ہوگی، اور نہ خرابی صحت کی شکایت کی نوبت آئے گی۔ 6 مارچ 1985 حدیث میں آیا ہے : اِنَّ الْوَلَدَ مَبْخَلَةٌ مَجْبَنَةٌ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 3666) ۔ یعنی اولاد بخل اور بزدلی میں مبتلا کرنے والی ہے۔ یہ بات ہمیشہ صحیح تھی۔ مگر موجودہ زمانہ میں یہ اور زیادہ صحیح ہو گئی ہے۔ قدیم زمانہ میں اسباب حیات بہت تھوڑے ہوتے تھے۔ اس لیے بخل اور بزدلی کے مواقع بھی کم تھے۔ اب اسباب حیات بہت زیادہ ہو گئے ہیں، اس لیے بخل اور بزدلی کے مواقع بھی بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ مکان، فرنیچر، لباس اور دوسرے ساز و سامان جتنے آج ہیں، اتنے کبھی نہیں تھے۔ بچوں کی تعلیم اور ان کے مستقبل کی تعمیر کے جو امکانات آج کھلے ہیں، وہ پہلے کبھی نہیں کھلے تھے۔ چنانچہ ہر آدمی انھیں امکانات میں کھویا رہتا ہے۔ وہ اپنے بچوں کو اعلیٰ ترین معیار زندگی کا حامل بنانا چاہتا ہے۔ یہ جذبہ آدمی کو دین کے معاملے میں بخیل اور بزدل بنا دیتا ہے۔ وہ اپنے مال کو بچاتا ہے، تاکہ اس کے ذریعہ سے زیادہ سے زیادہ بچوں کے مستقبل کو سنوارے۔ وہ اپنے وجود کو ہر خطرہ کے مقام سے دور رکھتا ہے، تاکہ بچوں کے بارے میں اس کا منصوبہ نامکمل نہ رہ جائے۔ 7 مارچ 1985 ایک مضمون نظر سے گزرا۔ یہ مضمون مصافحہ کے شرعی طریقہ کے بارے میں ہے۔ اس میں ”احادیث نبوی“ کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرنا افضل ہے۔ تاہم ایک ایک ہاتھ سے مصافحہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ یہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page