پیش لفظ
Urdu book, p. 41
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ کہتے ہیں کہ سردار یا قائد کو فقہ کا علم ہونا ضروری ہے۔ مگر یہ استدلال صحیح نہیں۔ حضرت عمر کے اس قول سے اس فن کی اہمیت ثابت نہیں ہوتی، جو امام ابوحنیفہ اور دوسرے فقہاء کے ذریعہ وجود میں آیا۔ حضرت عمر کے اس قول سے فقہ کی اہمیت ثابت کرنے والے لوگ بھول جاتے ہیں کہ موجودہ فقہ حضرت عمر فاروق کے زمانہ میں موجود ہی نہ تھی۔ اگر مذکورہ قول کے یہ معنی لیے جائیں تو تمام صحابہ (بشمول عمر فاروق) سرداری اور قیادت کے لیے نااہل قرار پائیں گے۔ کیوں کہ ان کا زمانہ موجودہ فقہ سے پہلے کا تھا۔ چنانچہ ان کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ موجودہ فقہ میں تبحر حاصل کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت عمر کے قول میں تفقه سے مراد حکمت و بصیرت حاصل کرنا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سرداری اور قیادت کے لیے دین کا سادہ علم کافی نہیں ہے، بلکہ دین میں گہری بصیرت ضروری ہے۔ گہری بصیرت کے بغیر جو شخص دینی قائد بنے گا، وہ قوم کو ہلاکت کے گڑھے میں لے جائے گا۔ 5 مارچ 1985 طب نبوی پر تقریباً ایک درجن کتابیں ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف اوقات میں صحت اور امراض کے علاج کے بارے میں جو کچھ فرمایا، ان کو محدثین نے اپنی کتابوں میں جمع کر دیا ہے۔ صحیح بخاری میں بھی کتاب الطب موجود ہے جس میں پچاسی ابواب ہیں۔ آخری باب کا عنوان ہے: بَابُ إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي الْإِنَاءِ (باب: جب مکھی برتن میں گر جائے)۔ ایک روایت اس سلسلہ میں یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار حضرت عائشہ کے پاس عیادت کے لیے آئے ۔ اس وقت آپ نے کہا: عائشہ، سب سے اچھی دوا پرہیز ہے، اور معدہ بیماری کا گھر ہے (الْأُزْمُ دَوَاءٌ، وَالْمَعِدَةُ بَيْتُ الدَّاءِ) الطب النبوی للذهبي، صفحه 102۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader