6 مارچ 1985
Urdu book, p. 44
By Maulana Wahiduddin Khan
استعمال ہوتا ہے، اس کو بند ہونا چاہیے اور اردو اور انگریزی دونوں الرساله میں صرف اللہ استعمال ہونا چاہیے۔ اس کی وجہ انھوں نے یہ بتائی کہ خدا اور گاڈ دونوں لفظوں کی جمع آتی ہے۔ جب کہ اللہ ایک ایسا لفظ ہے جس کی جمع نہیں۔ آج کل مسلمانوں میں یہ رجحان بہت بڑھ گیا ہے۔ حتی کہ انگریزی میں لوگ "اللہ سبحانہ وتعالیٰ" لکھتے ہیں۔ مگر میرے نزدیک یہ قومی جنون ہے، اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ جب کہ معلوم ہے کہ اللہ کا لفظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایجاد نہیں کیا۔ یہ پہلے عربوں میں موجود تھا۔ قدیم عرب نے اگر چہ اللہ کی لفظی جمع نہیں بنائی، مگر اس کی معنوی جمع انھوں نے بنا رکھی تھی۔ یعنی اللہ کو مانتے ہوئے وہ اس کے شرکاء کو بھی مانتے تھے۔ اس طرح اللہ کا لفظ قدیم عرب کے پس منظر میں شرک کا مفہوم لیے ہوئے تھا۔ مگر قرآن نے جب اس کو خالص توحید کے معنی میں استعمال کیا، تو وہ توحید کے مفہوم کا حامل بن گیا۔ الفاظ کی معنویت ان کے استعمال سے متعین ہوتی ہے اور اسلامی کتابوں میں خدا اور گاڈ کا لفظ اسلامی استعمال کے اعتبار سے ہے نہ کہ جاہلی استعمال کے اعتبار سے۔ انگریزی میں "اللہ سبحانہ وتعالیٰ" لکھنا ایک قسم کا جنون (fanaticism) ہے۔ میرا ذوق یہ ہے کہ اس معاملہ میں ادبی تقاضوں کو اہمیت دینی چاہیے۔ ادبی تقاضوں کو اہمیت نہ دینے کا نقصان یہ ہے کہ عبارت کا زور گھٹ جاتا ہے۔ 9 مارچ 1985 افغانستان ایک لینڈ لاکڈ کنٹری ہے۔ اس میں مختلف قومیں اور قبائل آباد ہیں۔ افغانستان کے سابق حکمراں ظاہر شاہ (2007-1914) کے زمانہ میں سردار داؤد شاہ خان (1909-1978) وزیر فوج تھے۔ انھوں نے جولائی 1973 میں فوجی انقلاب کیا، اور ظاہر شاہ کو ملک بدر کر کے خود حکومت سنبھال لی۔ سردار داؤد کو اپنے اس مقصد کے لیے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader