6 مارچ 1985
Urdu book, p. 45
By Maulana Wahiduddin Khan
کمیونسٹ پارٹی (خلق) کی مدد لینی پڑی ، جو 1965 میں قائم ہوئی تھی، اور جس کا لیڈر نور محمد ترہ کی (1979-1917) تھا۔ افغانستان کی کمیونسٹ پارٹی نے عوامی سطح پر سردار داؤد کے انقلاب کی حمایت کی۔ اس کے بعد سردار داؤد اور نور محمد ترہ کی (Nur Muhammad Taraki) میں اقتدار کی کشمکش شروع ہوئی۔ آخر کار تقریباً ساڑھے چار برس بعد دوبارہ انقلاب ہوا۔ اپریل 1978 میں خلق پارٹی نے روسیوں کی مدد سے بغاوت کر دی۔ سردار داؤد مع اپنے اہل خاندان قصر صدارت میں مار ڈالے گئے، اور نور محمد ترہ کی برسر اقتدار آئے۔ اس طرح افغانستان کمیونسٹ انقلاب آیا، جس کو مقامی زبان میں انقلاب نور کہا جاتا ہے۔ یہیں سے افغانستان میں باقاعدہ روسی تسلط کا آغاز ہوا۔ یہ ایک ہی کہانی ہے، جو تقریباً ہر ملک میں کسی نہ کسی شکل میں دہرائی جا رہی ہے۔ مصر میں الاخوان المسلمون نے شاہ فاروق (1965-1920) کا خاتمہ کرنے کے لیے فوجی افسروں کا ساتھ دیا۔ بعد کو ان فوجی افسروں نے حکومت پر قابض ہو کر اس سے زیادہ ظلم کیا، جو شاہ فاروق کر سکتا تھا۔ پاکستان میں سید ابوالاعلیٰ مودودی (1979-1903) صدر ایوب (1907-1971) کو ہٹانے کے لیے بھٹو (1979-1928) کے ساتھ متحد ہو گئے۔ مگر جب صدر ایوب کا خاتمہ ہوا، تو اس کے بعد پاکستان میں بھٹو کے تحت پہلے سے بھی زیادہ ظالمانہ حکومت قائم تھی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی عقل چھن گئی ہے۔ وہ بار بار ایسے اقدام کرتے ہیں جس کا نتیجہ صرف الٹی صورت میں ان کے لیے برآمد ہو۔ انسانوں میں بدترین وہ لوگ ہیں، جو دوسرے انسانوں کے سامنے اپنے آپ کو خدا پرست ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ خدا والے نہ ہو کر بھی اپنے کو خدا والا ثابت کرنا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader