6 مارچ 1985
Urdu book, p. 47
By Maulana Wahiduddin Khan
علیہ۔ مگر چودہ سو سال تک کسی نے ایسا نہیں کیا کہ معروف نحوی قاعدہ کے مطابق بنانے کے لیے قرآن میں اس آیت کو عَلَيْهِ لکھے یا اس کو عَلَيْہِ پڑھے۔ سیکڑوں سال سے یہ آیت اسی طرح لکھی اور پڑھی جارہی ہے، جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پڑھ کر سنایا تھا۔ کیسا عجیب یہ اہتمام ہے، جو قرآن کی حفاظت کے لیے کیا گیا ہے۔ 12 مارچ 1985 میں نے بطور خود ایک اصطلاح وضع کی ہے، جس کو میں ڈیگال ازم (Degaulism) کہتا ہوں، اس کا مطلب ہے ۔ کسی لیڈر کا اپنی لیڈری کی قیمت پر قوم کا مستقبل بنانا۔ موجودہ زمانہ میں فرانس کے جنرل ڈیگال کی زندگی اس قربانی کی ایک مثال ہے۔ اس لیے میں نے انھیں کے نام سے ڈیگال ازم کی اصطلاح وضع کی ہے۔ جنرل ڈیگال (1890-1970) موجودہ صدی کے وسط میں فرانس کے حکمراں بنے۔ اس وقت فرانس یورپ کا مرد بیمار بنا ہوا تھا۔ فرانس کے افریقی مقبوضات میں آزادی کی تحریکیں چل رہی تھیں۔ ان تحریکوں کو کچلنے میں خود فرانس کچل اٹھا تھا۔ فرانس کے بے شمار جوان مارے گئے تھے، اور اس کی اقتصادیات دیوالیہ کی حد کو پہنچ گئی تھی۔ فرانس کے افریقی مقبوضات اس کے لیے سرمایہ (asset) نہ تھے، بلکہ اس کے لیے بوجھ (liability) بن چکے تھے۔ مگر اس طرح کی چیزیں قوموں کے لیے پریٹیج (prestige) کا مسئلہ بن جاتی ہیں، اور جو چیز پریٹیج بن جائے، اس سے دست برداری کے لیے لوگ کسی قیمت پر تیار نہیں ہوتے۔ جنرل ڈیگال نے اس معاملہ کی نزاکت کو محسوس کیا۔ انھوں نے 60-1950 میں افریقہ کی تمام فرانسیسی نوآبادیات کو آزاد کر دیا۔ اس کے بعد 1962 میں الجیریا کو بھی آزاد کر دیا، جہاں زبردست تحریک آزادی چل رہی تھی، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ جنرل ڈیگال

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader