Urdu book · اوراقِ حکمت

6 مارچ 1985

Urdu book, p. 46

By Maulana Wahiduddin Khan

چاہتے ہیں۔ ایسے لوگ گویا خدا کو دھوکا دے رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے وہ دونوں کے درمیان معلق رہتے ہیں، نہ پوری طرح اپنے عقیدہ کے لیے یکسو ہوتے اور نہ پوری طرح اپنے مفادات کے لیے۔ آخرت میں اگر کوئی جہنم کا سب سے بُرا درجہ ہے تو وہ یقیناً اس قسم کے انسانوں کے لیے ہوگا۔ اسی لیے قرآن میں آیا ہے: إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ (4:145)۔ یعنی بیشک منافقین دوزخ کے سب سے نیچے کے طبقے میں ہوں گے۔ 11 مارچ 1985 قرآن کی سورہ الفتح میں ہے: وَمَنْ أَوْفَى بِمَا عَاهَدَ عَلَيْهُ اللَّهَ (48:10)۔ یعنی اور جو شخص اس عہد کو پورا کرے گا، جو اس نے اللہ سے کیا ہے۔ یہاں عربی نحو کے عام قاعدہ کے مطابق عَلَيْهِ کی ”ھ“ زیر ہونا چاہیے، یعنی عَلَيْهِ پڑھا جانا چاہیے، نہ کہ عَلَيْهُ۔ اس غیر معمولی اعراب پر تفسیر کی کتابوں میں لمبی بحثیں کی گئی ہیں، اور مختلف طریقوں سے اس کو درست ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مگر ایک اہم پہلو اور ہے، جو تفسیر کی کتابوں میں نہیں آیا ہے۔ وہ ہے قرآن کا کامل طور پر محفوظ ہونا۔ قرآن کو صحابہ کرام نے اور بعد کے لوگوں نے کامل طور پر محفوظ رکھنے کا انتہائی حد تک اہتمام کیا ہے۔ حتیٰ کہ اس کی آواز کو بھی پوری طرح محفوظ رکھا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب قرآن کا کوئی حصہ اترتا، تو اسی وقت فوراً اس کو لکھ لیا جاتا تھا۔ اسی کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت نماز کے اندر یا نماز کے باہر جس طرح ہوتی تھی، اس کی کامل نقل کی جاتی تھی۔ چنانچہ اس آیت میں صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عَلَيْهُ پڑھتے ہوئے سنا، تو عین اسی طرح اس کو محفوظ کر لیا اور بعد کی نسلوں کو اسی طرح منتقل کرتے رہے۔ قرآن کے بعد جو حومر تب ہوئی اس میں ایسے موقع پر زیر کا اصول درج کیا گیا، یعنی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page