Urdu book · اوراقِ حکمت

14 مارچ 1985

Urdu book, p. 52

By Maulana Wahiduddin Khan

مرکز ہے، اور تحریک صیہونیت سے مراد داؤد اور سلیمان کے دور کو زندہ کرنا ہے، تا کہ یہودی عظمت دوبارہ مذہبی اور سیاسی اعتبار سے قائم ہو جائے۔ یہ ایک مثال ہے کہ مذہبی الفاظ کس طرح قومی تحریکوں کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہودی اپنی موجودہ فلسطینی تحریک کو صیہونیت (Zionism) کہتے ہیں۔ یہودی روایت کے اعتبار سے ان کے لیے غالباً یہ سب سے زیادہ مفید مطلب نام ہے۔ یہی چیز آج مسلمانوں میں بھی مختلف اعتبار سے پیدا ہو گئی ہے۔ وہ خالص قومی تحریکیں چلاتے ہیں، اور مقدس ظاہر کرنے کے لیے اس کو کوئی اسلامی نام دے دیتے ہیں۔ مگر جو چیز یہودیوں کے لیے بری ہے، وہ مسلمانوں کے لیے کس طرح اچھی ہو جائے گی۔ 19 مارچ 1985 صحابی رسول بشیر بن خصاصیہ کا واقعہ ہے کہ لوگوں نے ان سے کہا کہ سرکاری عمال صدقہ لینے میں ہم پر زیاد تیاں کرتے ہیں (إِنَّ أَهْلَ الصَّدَقَةِ يَعْتَدُونَ عَلَيْنَا)، کیا ہم اپنے مال میں سے زیادتی کے بقدر چھپا لیں، بشیر بن خصاصیہ نے کہا: نہیں (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 1586)۔ اسی طرح سعد بن ابی وقاص کی ایک روایت میں ہے: اِدْفَعوهَا إِلَيْهِمْ مَا صَلَّوْا الْخُمُس (المجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر (343)۔ یعنی جب تک وہ پانچ نمازیں پڑھتے ہیں ، زکوۃ انھیں دیتے رہو۔ بنو امیہ کے زمانہ میں جب نظامِ خلافت بدل گیا اور حکام ظلم و تشدد پر اتر آئے، تو بعض لوگوں کو خیال ہوا کہ ایسے لوگ ہماری زکوۃ کے کیوں امین سمجھے جائیں۔ لیکن تمام صحابہ نے یہی فیصلہ کیا کہ زکوۃ انھیں کو دینی چاہیے۔ حضرت عبداللہ بن عمر سے ایک شخص نے پوچھا کہ اب زکوۃ کس کو دیں۔ کہا: وقت کے حاکموں کو۔ انھوں نے کہا: وہ تو زکوۃ کا روپیہ اپنے کپڑوں اور عطروں پر خرچ کر ڈالتے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page