14 مارچ 1985
Urdu book, p. 51
By Maulana Wahiduddin Khan
عنکبوت (آیت 2) میں ہے کہ خدا صرف آمنا (ہم ایمان لے آئے) کہنے پر آدمی کو نہیں دیتا، بلکہ وہ اس کی آزمائش کرتا ہے۔ اگر آپ آیت کا صرف ترجمہ کردیں، تو وہ جدید ذہن کے لیے کافی نہیں ہوگا۔ مگر جب آپ اس کو ان الفاظ میں بیان کریں — آدمی نارمل (normal) حالات میں جو کچھ کرتا ہے، اس پر اللہ کے یہاں فیصلہ نہیں ہوگا، بلکہ اس عمل پر ہوگا جو وہ ابنارمل (abnormal) حالات میں کرتا ہے، تو وہ فوراًجدید انسان کی سمجھ میں آ جاتا ہے۔ اسی طرح قرآن میں ہے: فَأُولَئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ (25:70)۔ یعنی اللہ اُن کی برائیوں کو بھلائیوں سے بدل دے گا۔ اس کی تشریح آپ ان لفظوں میں کریں کہ خدا آدمی کے ڈس ایڈوانٹیج کو ایڈوانٹیج میں تبدیل کر دیتا ہے۔ یہ تشریح باآسانی جدید ذہن کے لیے قابل فہم ہو جائے گی۔ اسی طرح عورت اور مرد کے بارے میں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: بَعْضُكُمْ مِنْ بَعْضٍ (3:195)۔ یعنی تم سب ایک دوسرے سے ہو۔ اگر اس کی وضاحت آپ ان الفاظ میں کریں تو آج کا انسان فوراً اُس کی حقیقت کو پالے گا کہ اسلام کے نزدیک عورت اور مرد ایک دوسرے کا تکملہ (supplement) ہیں، نہ کہ ایک دوسرے کا مثنی (counterpart)۔ 18 مارچ 1985 صهیون (Zion) کا لفظ بائبل میں 152 بار آیا ہے۔ یہ قدیم یروشلم میں ایک پہاڑ کا نام تھا۔ یہودی تاریخ بتاتی ہے کہ دسویں صدی قبل مسیح میں حضرت داؤد نے اسی پہاڑ پر اپنا شاہی قلعہ بنایا تھا۔ اس کے بعد حضرت سلیمان نے اسی پہاڑ پر عبادت گاہ تعمیر کی ۔ بعد کو صھیون کا لفظ عمومی طور پر پورے شہر یروشلم کے لیے استعمال ہونے لگا، جو کہ یہودیوں کے نزدیک ان کا مقدس وطن ہے۔ اس علاقہ کو آج کل اوفیل (Ophel) کہا جاتا ہے۔ اس طرح یہودی روایات کے مطابق ”صھیون“ سے مراد یہودیوں کا مذہبی اور سیاسی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader