14 مارچ 1985
Urdu book, p. 59
By Maulana Wahiduddin Khan
ذہنی سفر کا معاملہ عملی سفر کے معاملے سے بہت زیادہ مختلف ہے۔ ذہنی سفر میں آدمی اکیلا ہوتا ہے۔ ذہنی سفر میں یہ نزاکت پیش نہیں آتی کہ آدمی کو دوسروں سے نباہ کرتے ہوئے اپنا سفر طے کرنا ہے۔ مگر عملی سفر میں دوسرے لوگ بھی شریکِ سفر ہوتے ہیں۔ یہاں ضروری ہوتا ہے کہ آدمی دوسروں سے نباہ کرتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ جو ذہنی سفر میں بہت تیز رفتار نظر آتے ہیں، وہ عملی سفر میں بالکل ناکام ثابت ہوتے ہیں۔ 26 مارچ 1985 ہندوستان کے دینی مدارس کے معلم یقیناً ایک اہم خدمت انجام دے رہے ہیں۔ یہ ایسی نسل کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں، جس سے دینی روایت کا تسلسل قائم ہے۔ اسی طرح یہ مدارس آزاد ہندوستان میں اردو کو زندہ رکھنے کا ایک بڑا ذریعہ ہیں، وغیرہ۔ مگر ہندوستان کے دینی مدرسوں میں جو ماحول ہے وہ معلمین کے فکری مستویٰ کو بلند نہیں ہونے دیتا۔ مثال کے طور پر ان مدارس میں استاد اور شاگرد کا رشتہ صرف معلم اور معلمّ (متعلم) کا رشتہ ہے۔ یعنی ایک بتانے والا ہے اور دوسرا سننے والا۔ اس کی وجہ سے معلمین کا مزاج ایسا بن جاتا ہے کہ وہ اپنے ذہن سے باہر کی حقیقتوں کو سمجھ نہیں پاتے۔ طلبہ کے سامنے ان کی حیثیت یہ ہوتی ہے کہ انھیں سیکھنا نہیں ہے، بلکہ سکھانا ہے۔ اس سے ان کا ذہن جمود (stagnation) کا شکار ہو جاتا ہے۔ مزید یہ کہ جاننا یا دوسروں کے نقطۂ نظر کو سمجھنے کی کوشش کرنا، یہ سب باتیں ان کے مزاج سے خارج ہو جاتی ہیں۔ اس کے برعکس مغرب میں تعلیم کا تصور بالکل دوسرا ہے۔ مغرب میں استاد اور شاگرد کے درمیان معلمّ اور معلم کا تعلق نہیں، بلکہ رفیق کا تعلق ہے۔ ان کے نزدیک تعلیم ایک مشترک سفر ہے، جس کو استاد اور شاگرد دونوں مل کر انجام دیتے ہیں۔ اس طرح کے ماحول میں انسان کا ذہن یہ بنتا ہے کہ اس کو اگر کچھ دینا ہے، تو اسی کو دوسرے سے کچھ لینا بھی ہے۔ وہ اگر کچھ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader