14 مارچ 1985
Urdu book, p. 60
By Maulana Wahiduddin Khan
باتیں جانتا ہے تو دوسرے بھی کچھ باتوں کو جانتے ہیں جن کو اسے دوسرے سے لینا چاہیے۔ مغرب کے تعلیمی نظام میں معلم کے اندر ذہنی جمود پیدا نہیں ہوتا۔ اس کے اندر یہ صلاحیت زندہ رہتی ہے کہ وہ اپنے سے باہر کی حقیقتوں کو سمجھے، اور ان سے فائدہ اٹھائے۔ اس کے برعکس ہمارے دینی مدارس کا ماحول، مذکورہ سبب سے، جامد ذہنیت پیدا کرنے کا کارخانہ بن گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان مدارس کے ذریعہ تحفظ دین کا کام تو کسی درجہ میں ہوا، مگر احیائے دین کا کام ان مدارس کے ذریعہ مطلق نہ ہو سکا۔ 1985 27 مارچ قدیم مفسرین کا طریقہ یہ ہے کہ وہ قرآنی آیتوں کے ذیل میں شان نزول کی روایات بیان کرتے ہیں۔ فراہی اسکول اس طریقہ تفسیر کا مخالف ہے۔ وہ شان نزول کی روایتوں کی روشنی میں قرآن کی تشریح کرنا صحیح نہیں سمجھتا۔ مثال کے طور پر سورۂ حجرات کی ابتدائی آیات کے ذیل میں قدیم تفسیروں میں ولید بن عقبہ کا قصہ نقل ہوا ہے۔ مولانا امین احسن اصلاحی نے اپنی تفسیر تدبر قرآن میں اس پر سخت گرفت کی ہے اور اس کو بے بنیاد قرار دیا ہے (ملاحظہ ہو، تدبر قرآن جلد 6، صفحہ 97-495)۔ یہ لوگ اس طریقہ تفسیر کی مخالفت اس لیے کرتے ہیں کہ شان نزول کی روایتوں کو ماننے کی صورت میں گویا قرآن محض خاص انفرادی واقعات سے متعلق ہو کر رہ جاتا ہے۔ ان کے نزدیک اس سے قرآن کی وسعت اور ابدیت مجروح ہوتی ہے۔ مگر یہ محض ایک غلط فہمی ہے۔ اگر ہم یہ مانیں کہ قرآن کی فلاں آیت فلاں خاص واقعہ پیش آنے پر اتری تو اس سے قرآن کی وسعت اور ابدیت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن حالات کے ذیل میں اترا ہے (الفرقان، 25:33)، نہ کہ عام تصنیف کی طرح یکبارگی لکھ کر ایک مکمل کتاب کی صورت میں اتار دیا گیا ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader