Urdu book · اوراقِ حکمت

پیش لفظ

Urdu book, p. 6

By Maulana Wahiduddin Khan

عوامی مقبولیت حاصل کرنے میں وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو اس قسم کے الفاظ بولنا جانتے ہوں۔ تاہم یہ مقبولیت وقتی ہوتی ہے۔ نیز اس کے ذریعہ کوئی گہر تعمیر ی کام نہیں کیا جا سکتا۔ علمِ حساب کے ایک ماہر نے کہا ہے: I can prove anything by statistics— except the truth. یعنی میں حساب اور شماریات کے ذریعے ہر چیز کو ثابت کر سکتا ہوں سوائے سچائی کے۔ شماریات کا علم موجودہ زمانے میں بہت ترقی کر گیا ہے۔ شماریات کی زبان میں کوئی بات کہہ دی جائے تو سمجھا جاتا ہے کہ اس کو واقعے کی زبان میں کہہ دیا گیا۔ حالاں کہ یہ محض گنتیوں کا ایک شعبدہ ہوتا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ شماریات سے ثابت شدہ چیز کا حقیقتِ واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ کوئی چیز گنتی کی زبان میں ثابت ہو جائے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ حقیقت کے طور پر بھی ثابت ہوگئی۔ 3 جنوری 1985 ایک صاحب دفتر میں تشریف لائے۔ انھوں نے کہا کہ میں الرسالہ میں مضمون شائع کروانا چاہتا ہوں۔ اس کی کیا شرائط ہیں۔ میں نے کہا: آپ دس سال عربی پڑھیے۔ دس سال انگریزی پڑھیے۔ دس سال لکھنے کی مشق کیجیے۔ اس کے بعد آپ کا مضمون الرسالہ میں شائع ہو جائے گا۔ اس کو سن کر وہ کچھ دیر خاموش بیٹھے رہے اور پھر اٹھ کر چلے گئے۔ آج کل مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ محنت کے بغیر نتیجہ حاصل کرنا چاہتے ہیں، اور محنت کے بغیر کسی نتیجہ کا اس دنیا میں ملنا ممکن نہیں ہے۔ لکھنا مشکل ترین آرٹ ہے۔ مگر مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ جو شخص بھی قلم پکڑنا جانتا ہو، وہ سمجھتا ہے کہ میں لکھنا بھی جانتا ہوں۔ چنانچہ غیر معیاری

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page