Urdu book · اوراقِ حکمت

پیش لفظ

Urdu book, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

مضامین اور غیر معیاری کتابوں کی بھر مار ہورہی ہے۔ اس کے برعکس، معیاری کتابیں بہ مشکل ہی دیکھنے میں آتی ہیں۔ انسانی تاریخ بتاتی ہے کہ جو شخص حکومت کو چیلنج کرے وہ فوراً عوام کے اندر مقبولیت حاصل کرلیتا ہے۔ مگر اسی کے ساتھ یہ حقیقت ہے کہ یہ عوامی مقبولیت ان کے لیے فتنہ بن جاتی ہے۔ یہی معاملہ مسلم ورلڈ میں بھی پیش آیا۔ چنانچہ واقعہ بتاتا ہے کہ بہت سے مسلم دینی رہ نما اس قسم کی تحریکوں کے ذریعے عوام کے اندر مقبول ہو گئے۔ مگر عوامی مقبولیت حاصل کرتے ہی وہ بدل گئے۔ اب غور کیجیے کہ جو رہ نما عوامی مقبولیت کے مقابلے میں با اصول بن کر قائم نہ رہ سکا، وہ اقتدار کے مقابلے میں کیسے قائم رہے گا۔ 7 جنوری 1985 ایک صاحب نے بتایا کہ ان سے کسی نے میرے بارے میں کہا کہ ان کا کیا کہنا ہے۔ وہ تو اب فلاں صاحب کے ٹکر کے ہوگئے ہیں، یعنی مادی اعتبار سے۔ کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جو آدمی کو اس سے ناپتے ہیں کہ اس کے پاس بلڈنگ اور کار وغیرہ ہے یا بلڈنگ اور کار وغیرہ نہیں ہے۔ میرے نزدیک یہ سادہ سی بات نہیں ہے۔ یہ دراصل دوزخ کی اصطلاحوں میں سوچنا ہے۔ ایسے لوگ دوزخ کے مومنین ہیں۔ اگرچہ خوش فہمی کے تحت وہ اپنے آپ کو جنت کے مومنین میں شمار کرتے ہیں۔ 8 جنوری 1985 ایک عیسائی پادری تشریف لائے۔ ان کا نام اور پتہ درج ذیل ہے: REV John, Preacher in Church of God, Sector 33, Chandigarh

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page