Urdu book · اوراقِ حکمت

اوراقِ حکمت

Urdu book, p. 70

By Maulana Wahiduddin Khan

مرد کو بہت زیادہ چاہتی تھی۔ مگر شادی کے جلدی بعد مرد کا انتقال ہو گیا اور اس نے ایک چھوٹا بچہ چھوڑا۔ سوال نامہ میں پوچھا گیا تھا کہ بتاؤ کہ یہ عورت اپنے محبوب شوہر کے مرنے کے بعد خود بھی مر جانا چاہیے گی یا زندہ رہنا پسند کرے گی۔ بہت سے لوگوں نے اپنے جوابات بھیجے جس آدمی کو انعام ملا، وہ شخص وہ تھا جس نے لکھا کہ وہ عورت اپنے بچے کی خاطر زندہ رہنا چاہیے گی۔ ایسا ہی کچھ میرا حال بھی ہے۔ لوگوں نے مجھے جس قدر ستایا ہے، اور ستار ہے ہیں، اس کے بعد مجھے ایک دن کے لیے بھی زندہ نہیں رہنا چاہیے تھا۔ مگر میرے سامنے جو دینی کام ہے وہی وہ چیز ہے جو مجھے زندہ رکھے ہوئے ہے۔ میں قرآن کی تفسیر مکمل کرنا چاہتا ہوں۔ میں سیرت پر ایک کتاب لکھنا چاہتا ہوں۔ اس کے علاوہ کئی ضروری موضوعات پر دینی کتابیں تیار کرنا ہے۔ یہی پیش نظر کام ہے، جو مجھے زندہ رہنے پر مجبور کرتا ہے۔ شاید اللہ تعالیٰ کو بھی منظور ہے کہ میں یہ کام کروں۔ ورنہ لوگوں نے جتنا زیادہ مجھے پریشانی میں مبتلا کیا ہے، اس کے بعد میری راتوں کی نیند اڑ جانی چاہیے تھی۔ مگر یہ اللہ کا خاص فضل ہے کہ میرے ہوش پوری طرح باقی ہیں۔ رات کو مجھے وہ نیند آتی ہے جس کو sound sleep کہا جاتا ہے۔ اگر میری نیند خدا نخواستہ اڑ جاتی، تو اس کے بعد میں کوئی بھی علمی کام نہیں کر سکتا تھا۔ یا اللہ، مجھے بخش دیجیے، دنیا کا ستایا ہوا، آخرت میں نہ ستایا جائے۔ 19 اپریل 1985 1973 کا واقعہ ہے۔ اسرائیل اور فلسطینیوں کی لڑائی میں فلسطینیوں کا کافی نقصان ہوا تھا، اور مسلمانوں میں غم و غصہ کا ماحول تھا۔ 19 اکتوبر 1973 کو جمعیۃ علماء کے زیر اہتمام دہلی میں ایک احتجاجی جلوس نکالا گیا۔ یہ جلوس جامع مسجد سے شروع ہو کر امریکی سفارت خانہ پر ختم ہوا۔ دہلی کے مسلمانوں کے علاوہ اطراف کے شہروں کے مسلمان بھی بڑی تعداد میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page