6 اپریل 1985
Urdu book, p. 69
By Maulana Wahiduddin Khan
جب کہ مسلمان اپنے حصہ کا فساد بند کریں۔“ مسلمانوں کے لیے یہ بات بے حد سخت ہے کیوں کہ سارے مسلم لیڈر یک طرفہ طور پر ہندو کو برا کہہ رہے ہیں۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کو قصور وار ٹھہرانا، ان کے قومی ذوق کے سراسر خلاف ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جو بات ایک کٹڑ ہندو کہے گا، وہ میں مسلمان ہو کر کہہ رہا ہوں۔ چنانچہ ایک صاحب ہمارے دفتر میں آئے تو میرے ان مضامین پر گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ”لوگوں کا خیال ہے کہ آپ ڈیپوٹ (depute) کیے گئے ہیں“ ان کا مطلب یہ تھا کہ میں ہندو حکومت یا ہندو جماعتوں کی طرف سے اس لیے ڈیپوٹ کیا گیا ہوں کہ مسلمانوں کو قصور وار ثابت کروں۔ میں نے کہا کہ ایک معمولی ترمیم کے بعد مجھے آپ کے جملہ سے اتفاق ہے۔ وہ ترمیم یہ ہے: ”بلاشبہ میں deputed انسان ہوں تا کہ میں رسولِ خدا کی تعلیم کو انسانوں تک پہنچاؤں، اس میں میرا کوئی مادی انٹریسٹ نہیں۔“ 1985ء 8 اپریل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں حضرت عائشہ نے فرمایا کہ لوگوں نے آپ کو روند ڈالا تھا (حَطَمَهُ النَّاسُ) صحیح مسلم، حدیث نمبر 732۔ نہیں معلوم کہ اللہ تعالیٰ کی کیا مصلحت ہے، مگر میرے جیسے کمزور آدمی کے ساتھ بھی یہ واقعہ پیش آیا ہے کہ لوگوں نے مجھ کو اتنا زیادہ ستایا ہے کہ اس کے لیے انسانی زبان میں سب سے موزوں لفظ یہی ہے۔ لوگوں نے مجھ کو روند ڈالا۔ پھر بھی میں زندہ ہوں۔ اپنے حال پر مجھے ایک قصہ یاد آتا ہے۔ ایک رسالہ نے ایک بار ایک انعامی سوال نامہ چھاپا۔ سوال یہ تھا کہ ایک عورت کی شادی ایک مرد سے ہوئی۔ عورت اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader