19 اپریل 1985
Urdu book, p. 73
By Maulana Wahiduddin Khan
( خیال کو قزل ارسلان بادشاہ کی رکاب کو بوسہ دینے کے لیے نو آسمانوں کو پاؤں کے نیچے رکھنا پڑا )۔ اس مبالغہ پر نا گواری کا اظہار کرتے ہوئے شیخ سعدی ( مصلح الدین ابن عبد اللہ شیرازی، وفات 1291ء) نے کہا: چه حاجت که نه کرسی آسمان نهی زیر پای قزل ارسلان ( اس کی کیا ضرورت ہے کہ تم آسمان کی نو کرسیوں کو قزل ارسلان بادشاہ کے پاؤں کے نیچے رکھو ) مگر شیخ سعدی نے یہ شعر اس وقت کہا تھا جب کہ وہ زیادہ تر سیر وسیاحت میں مشغول رہتے تھے، اور آزادانہ زندگی گزارتے تھے۔ اس وقت وہ ہر چیز سے بے نیاز تھے۔ وہ اس کی ضرورت محسوس نہیں کرتے تھے کہ کسی رئیس یا بادشاہ کی مدح خوانی کریں۔ مگر بعد کے زمانہ میں انھوں نے شیراز میں مستقل سکونت اختیار کرلی۔ اس وقت دوسرے شاعروں کی طرح ان کے تعلقات بھی دربارِ شاہی سے ہو گئے۔ اس وقت وہ اپنے ماحول سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ چنانچہ انھوں نے بھی بادشاہوں کی مدح میں مبالغہ آمیز قصیدے لکھے۔ سلطان شیراز، اتابک ابوبکر بن سعد زنگی کی مدح میں وہ اپنے ایک قصیدہ میں کہتے ہیں: توئی سایہ لطف حق بر زمین پیمبر صفت رحمتہ للعالمین ( تم ہی زمین پر خدا کی مہربانی کا سایہ ہو، تم پیغمبر کی طرح دنیا والوں کے لیے رحمت ہو) اکثر انسان اپنے حالات کی پیداوار ہوتے ہیں۔ اگر ان کے حالات بدل جائیں تو وہ خود بھی بدل جاتے ہیں۔ ایک مقالہ پڑھا جس کا عنوان ہے: حسین اور انسانیت۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader