اوراقِ حکمت
Urdu book, p. 74
By Maulana Wahiduddin Khan
مقالہ ان الفاظ سے شروع ہوتا ہے: ”اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو کائنات کا ذرہ ذرہ اس کے قدموں سے لپٹنے کے لیے بے چین و بے قرار نظر آیا۔ پہاڑوں نے اپنے سینے کشادہ کر دیے ۔ دریا کی گہرائیاں پایاب ہوگئیں۔ بے قرار سمندر اس کے لیے خود ساحل بنانے لگے۔ آفتاب نے اس کی عظمت و بزرگی کے اعتراف میں اپنی روشنی پیش کر دی کہ یہ انسان عظیم ہے۔“ مقالہ اسی قسم کے الفاظ سے شروع ہوتا ہے، اور اسی قسم کے الفاظ پر ختم ہو جاتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں اردو کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ تھی کہ اس کے اوپر شاعری کا غلبہ رہا۔ چنانچہ نہ صرف نظم میں شاعری کی گئی، بلکہ نثر میں بھی یہی انداز جاری رہا۔ خطیبوں نے اپنی خطابت میں بھی یہی انداز اختیار کیا۔ اردو زبان میں یہ انداز اتنا زیادہ عام ہوا کہ زبان اور اس کے اسالیب اسی انداز میں ڈھل گئے، شاعرانہ اندازِ اظہار اردو پر بالکل چھا گیا۔ چنانچہ اب یہ حال ہے کہ اگر کسی خیال کو سادہ طور پر ادا کرنا چاہیں تو اردو میں اس کے لیے الفاظ نہیں ملتے۔ سائنٹفک اسلوب سادہ اسلوب ہے۔ وہ حقیقت نگاری کا دوسرا نام ہے۔ مگر اردو اپنے شاعرانہ انداز کی وجہ سے اس کے بالکل نااہل ہوگئی کہ اس میں کسی بات کو سائنٹفک انداز سے بیان کیا جا سکے۔ 13 اپریل 1985 زوال یافتہ لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ ذرا ذرا سی بات پر ہنگامہ کرتے ہیں اور اپنے مفروضہ دشمنوں سے لڑنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد جب حکومتی کارروائی ہوتی ہے تو چپ ہو کر گھروں میں بیٹھ رہتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زوال یافتہ لوگوں میں صبر کی کمی ہوتی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader