اوراقِ حکمت
Urdu book, p. 78
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوتے ہوئے پایا ، اس کو دین سمجھ کر اپنا لیا ۔ اس کے مقابلے میں دین پر عمل کرنے کی اعلیٰ صورت یہ ہے کہ آپ نے دین کے معاملے میں صرف گھر اور مسلم معاشرے پر اکتفا نہیں کیا ، بلکہ آپ نے تدبر و تفکر اور گہرے مطالعے کے ذریعے دینِ اسلام کو دریافت کے درجے میں حاصل کیا ، اپنے ارادہ و اختیار سے خدا کی معرفت حاصل کی ۔ ایک متلاشی حق نے مسلم قوم پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا : They are Muslims by chance, but we are Muslims by choice. یہ فرق کوئی معمولی فرق نہیں ۔ یہ فرق آدمی کے کردار میں زبردست فرق پیدا کرتا ہے ۔ جن لوگوں کو اسلام محض پیدائشی طور پر مل جائے ، ان کے اندر کوئی اسلامی حرارت نہیں ہوتی ۔ وہ اسلام کے نام پر دوسروں کے خلاف چھوٹے ہنگامے کر سکتے ہیں ، مگر خود ان کے اندر اسلام ایک انقلاب کے طور پر داخل نہیں ہوتا ۔ مگر جو شخص اسلام کو خود اپنے انتخاب سے اختیار کرے ، اس کے لیے اسلام ایک ذہنی انقلاب کے ہم معنی ہوتا ہے ۔ وہ اس کی اندرونی شخصیت میں بھونچال کے ہم معنی ہوتا ہے ۔ ایسے ہی افراد دراصل وہ لوگ ہیں ، جو تاریخ بناتے ہیں ۔ 19 اپریل 1985 موجودہ دنیا میں ہر قوم نے اپنی قومی برتری کا ایک نعرہ اختیار کر رکھا ہے : My Country, right or wrong میرا ملک چاہے حق پر ہو یا ناحق پر Germany above all جرمنی سب سے اوپر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader