Urdu book · اوراقِ حکمت

اوراقِ حکمت

Urdu book, p. 77

By Maulana Wahiduddin Khan

اشاعت اپریل 1985 میں استاذ محمد عبد اللہ السمان کا ایک مضمون چھپا ہے جس کا عنوان دوبارہ یہ ہے: لماذا تأخرنا وتقدّم غيرنا مضمون نگار نے لکھا ہے کہ مسلمان عام طور پر اپنے اسلاف پر فخر کرتے ہیں۔ وہ روم و ایران کی فتح اور بدر و حنین اور یرموک و قادسیہ کی فتوحات کا ذکر کر کے خوش ہوتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ خود ہم نے کیا کیا (ولكن ماذا فعلنا نحن)۔ اس کے بعد انھوں نے یہ شعر لکھا ہے: ليس الفتى من يقول كان أبى ولكن الفتى من قال ها أنا ذا ( جوان وہ نہیں ہے جو کہے کہ میرا باپ ایسا تھا، جوان وہ ہے جو کہے کہ یہ ہوں میں ) 17 اپریل 1985 عبد اللہ بن المبارک (وفات 181ھ) کا ایک قول ہے: لَا يَزَالُ الْمَرْءُ عَالِماً مَا طَلَبَ الْعِلْمَ، فَإِذَا ظَنَّ أَنَّهُ قَدْ عَلِمَ؛ فَقَدْ جَهِلَ (المجالسۃ و جواہر العلم، اثر نمبر 308)۔ یعنی آدمی اس وقت تک عالم رہتا ہے جب تک وہ علم سیکھتا رہے۔ جب وہ گمان کرے کہ وہ عالم ہو گیا تو پھر وہ جاہل ہو گیا۔ عباس محمود العقاد کہا کرتے تھے کہ علم پڑھنے کا نام ہے۔ وہ بہت افسوس کرتے تھے کہ اکثر لکھنے والوں کا یہ حال ہے کہ وہ جتنا پڑھتے ہیں، اس سے زیادہ وہ لکھتے ہیں ( العقاد كان يقول: العلم هو القراءة۔ وكان ياسف ابلغ الاسف، لأن كثيرا من الكتاب يكتبون اكثر مما يقرأون ) رابطة العالم الاسلامی، رجب 1405 ھ۔ دین پر عمل کرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ آپ نے گھر میں جو دین کے نام پر جو چیز

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page