Urdu book · اوراقِ حکمت

اوراقِ حکمت

Urdu book, p. 80

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک شریر آدمی نے موقع پا کر ایک بزرگ کے مکان پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد اس نے مزید یہ کیا کہ بزرگ کے اوپر جھوٹے مقدمے کر دیے تا کہ وہ دباؤ میں آ کر اس کے ناجائز قبضہ کو مان لیں۔ عدالت کی پیشیاں ہونے لگیں، اور بزرگ کی توجہ اور پیسہ غیر ضروری طور پر اس میں ضائع ہونے لگے۔ تاہم بزرگ اس سے پریشان نہیں ہوئے۔ مذکورہ شخص سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے کہا: یاد رکھو، آخری پیشی خدا کے یہاں ہونے والی ہے۔ موجودہ دنیا میں انسان کا حال یہ ہے کہ وہ جھوٹی تدبیریں کر کے دوسرے کے مال پر قبضہ کرتا ہے اور پھر فتح کا قہقہہ لگاتا ہے۔ وہ فرضی کارروائیاں کر کے دوسرے کی جائیداد کو اپنے نام لکھوا لیتا ہے اور پھر اپنے دوستوں میں اس کا تذکرہ اس طرح کرتا ہے گویا اس نے کوئی بہت بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ مگر اس قسم کی فتوحات اور کامیابی جھوٹی فتوحات اور کامیابیاں ہیں۔ وہ خدا کے یہاں پیشی کے وقت اتنی بے معنی ثابت ہوں گی کہ آدمی کے پاس الفاظ بھی نہ ہوں گے کہ وہ اپنی حمایت میں کچھ بول سکے۔ وہ وہاں خود ہی اپنے جرم کا اعتراف کرے گا۔ اگر چہ اس وقت اعتراف کرنا، اس کے کچھ کام نہ آئے گا۔ 22 اپریل 1985 ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ الرسالہ کے پرانے قاری ہیں۔ میں نے الرسالہ کے بارے میں ان کا تاثر پوچھا۔ انھوں نے کہا کہ میں سب سے پہلے سفرنامہ پڑھتا ہوں۔ آپ کا سفرنامہ بہت دلچسپ ہوتا ہے۔ اس قسم کا تبصرہ ذاتی طور پر مجھے پسند نہیں۔ کیوں کہ الرسالہ ذہنی تفریح کے لیے نہیں نکالا گیا ہے کہ لوگ اس کو دلچسپی کے لیے پڑھ لیا کریں۔ چنانچہ موصوف کی زبان سے یہ جملہ سن

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page