Urdu book · اوراقِ حکمت

اوراقِ حکمت

Urdu book, p. 81

By Maulana Wahiduddin Khan

کر مجھے سخت ناگواری ہوئی۔ مگر میں نے ناگواری کو برداشت کیا، اور اس کا اثر اپنی گفتگو یا ظاہری رویہ میں آنے نہیں دیا۔ اس کے بعد انھوں نے مزید اپنے تاثرات بیان کیے ۔ الرسالہ کے بارے میں بھی اور مکتبہ الرسالہ کی مطبوعات کے بارے میں بھی۔ ان کی مزید گفتگو سننے کے بعد اندازہ ہوا کہ ان کے بارے میں میرا وہ تاثر صحیح نہ تھا، جو ان کے ابتدائی فقرہ کو سن کر ہواتھا۔ وہ الرسالہ کو محض ”دلچسپی“ کے لیے نہیں پڑھتے۔ بلکہ وہ ان کے دل میں اتر چکا ہے، اور وہ اس کو اپنے حلقہ میں پھیلانے کی بھی برابر کوشش کرتے رہتے ہیں۔ اس سے میں نے یہ سبق لیا کہ آدمی کے بارے میں رائے قائم کرنے میں جلدی نہیں کرنی چاہیے ۔ اس سلسلہ میں ایک بات یہ ہے کہ بیشتر آدمی یہ نہیں جانتے کہ کسی بات کو کہنے کے لیے موزوں ترین لفظ کیا ہے۔ وہ اکثر ایک موزوں بات کو غیر موزوں الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔ اس کی وجہ سے غیر ضروری قسم کی غلط فہمیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ ہم کو چاہیے کہ ہم آدمی کو زیادہ سے زیادہ رعایت دیں۔ اجتماعی زندگی کو فساد سے بچانے کا یہی واحد کامیاب طریقہ ہے۔ 23 اپریل 1985 ڈاک سے ایک لفافہ موصول ہوا۔ اس میں ایک دینی ادارے کے ہفت روزہ میگزین کے ایک صفحے کی فوٹو کاپی تھی۔ یہ مضمون ادارے کے بانی کے بارے میں ہے۔ اس مضمون کا عنوان ہے: چراغ عالم اسلام تھے اس عنوان کے نیچے جو مضمون ہے وہ گویا نثر میں شاعری ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مضمون نگار نے نعت کے تمام شاندار الفاظ بانی ادارہ کی قصیدہ خوانی میں صرف کر دیے ہیں۔ اس مضمون کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ میری وفات کے بعد جو لوگ میری تعریف میں اس قسم کے قصیدے لکھیں گے ، وہ میرے جھوٹے ماننے والے ہوں گے۔ میرے حقیقی ماننے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page