اوراقِ حکمت
Urdu book, p. 88
By Maulana Wahiduddin Khan
باریک بینی کے ساتھ جانچتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ماہرین کی ایک ٹیم مقرر ہے، جس کے پاس ایک مکمل قسم کی ریفرنس لائبریری مہیا کی گئی ہے۔ میگزین کی ایک اشاعت (8 اپریل 1974) میں صفحہ اول کا مضمون (cover story) افراط زر پر تھا، جس کا عنوان تھا: World Inflation ٹائم میگزین پریس جانے سے پہلے حسب قاعدہ مذکورہ اسٹاف کے پاس پہنچا۔ اس مضمون میں ایک بات یہ تھی کہ قدیم لِڈیا کے باشندوں (Lydians) نے پہلی بار دھات کے سکے بنائے۔ متعلقہ کارکن نے اس کو لائبریری کے محققین کے پاس بھیجا کہ وہ اس کی تحقیق کریں۔ انھوں نے تین انسائیکلو پیڈیا کو دیکھا تو تینوں میں مختلف بیانات تھے۔ پھر انھوں نے تاریخ زر (History of Money) پر دواہم ٹیکسٹ بک سے رجوع کیا، اور بالآخر اپنے فیصلہ سے متعلقہ کارکن کو مطلع کیا۔ اس پورے عمل میں صرف پندرہ منٹ لگے۔ 2 مئی 1985 ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے یہ شکایت کی کہ الرسالہ میں سلف پرینز (self-praise) ہوتا ہے۔ میں نے کہا کہ اس کی مثال دیجیے۔ انھوں نے الرسالہ میں شائع شدہ ایک خط کا ذکر کیا جس میں الرسالہ کے زبان و بیان پر پسپندگی کا اظہار کیا گیا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ یہ بتائیے کہ سلف پرینز کا مطلب کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اپنی تعریف آپ کرنا۔ میں نے کہا کہ آپ نے جس خط کا حوالہ دیا ہے، وہ دوسرے شخص کا خط ہے پھر یہ اپنی تعریف آپ کرنا کیسے ہوا۔ اسی مجلس میں انھوں نے اپنے گھر کے حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ گھر کے اخراجات پہلے میں خود کرتا تھا مگر میں نے دیکھا کہ میرے ہاتھ سے زیادہ خرچ ہو جاتا ہے اس لیے میں نے یہ کام اپنی بیوی کے حوالے کر دیا۔ وہ، ماشاء اللہ، نہایت احتیاط سے خرچ کرتی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader