24 اپریل 1985
Urdu book, p. 87
By Maulana Wahiduddin Khan
جنر ل محمد نجیب (1984-1901) اور جمال عبد الناصر حسین (1970-1918) کے ساتھ مل کر مصر سے شاہ فاروق (1965-1920) کو معزول کرنے میں پوری طرح کامیاب ہوئے ۔ لیکن اس کے بعد انھوں نے مصر کے الیکشن میں حصہ لیا تو وہ بالکل ناکام ہو گئے۔ جماعت اسلامی پاکستان جنرل ایوب خان (1974-1907) اور ذوالفقار علی بھٹو (1979-1928) کی حکومت ختم کرنے میں نہایت کامیاب رہی۔ مگر جب وہ لوگ الیکشن کے میدان میں آئے تو وہ کامیاب نہ ہو سکے، وغیرہ وغیرہ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک شخص جب شاہ فاروق یا ایوب اور بھٹو کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے اٹھتا ہے تو وہ اکیلا نہیں ہوتا۔ پوری اپوزیشن اور تمام مخالف حکومت عناصر اس کے ساتھ شریک ہوجاتے ہیں حکومت کے خلاف مہم میں آدمی کی طاقت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے قائدین اینٹی حکومت مہم میں کامیاب رہے۔ اس کے بعد جب یہ لوگ ملک میں خود اپنا اقتدار قائم کرنے کے لیے اٹھے تو اس وقت وہ تنہا تھے۔ اس دوسری مہم میں انھیں اپنی تنہا قوت سے کامیاب ہونا تھا۔ چوں کہ ان کی تنہا قوت بہت کم تھی اس لیے وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اینٹی حکومت مہم میں جو مقبولیت حاصل ہوتی ہے، وہ بلاشبہ جھوٹی مقبولیت ہے۔ اس قسم کی مہم کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ محض شخصی لیڈری ہے، نہ کہ کوئی واقعی کام۔ اینٹی حکومت مہم میں فوراً مقبولیت حاصل ہوجاتی ہے، اس لیے لوگ تیزی سے اس کی طرف دوڑتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں مثبت مہم میں عوامی مقبولیت حاصل نہیں ہوتی۔ اس لیے اس کا میدان سونا پڑا ہوا ہے۔ اس میدان میں کوئی دکھائی نہیں دیتا۔ ٹائم میگزین (نیو یارک) کے دفتر میں یہ قاعدہ ہے کہ مضامین پریس میں جانے سے پہلے مخصوص اسٹاف کی ایک ٹیم کے پاس بھیجے جاتے ہیں۔ وہ ان میں مندرج تمام حقائق کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader