Urdu book · اوراقِ حکمت

اوراقِ حکمت

Urdu book, p. 98

By Maulana Wahiduddin Khan

میرا خیال ہے کہ قدیم شرک اور جدید الحاد دونوں حقیقت کے اعتبار سے ایک ہیں۔ شرک کیا ہے۔ شرک مظاہرِ فطرت کو سببِ فطرت سمجھ کر اس کو پوجنا ہے۔ اسی طرح الحاد بھی مظاہرِ فطرت کو سببِ فطرت سمجھ کر اس کو برتر قرار دینا ہے۔ فرق یہ ہے کہ شرک نے جن مظاہر کو برتر سمجھا، وہ چاند، سورج ، شعریٰ وغیرہ تھے۔ الحاد جس مظہرِ فطرت کو برتر قرار دے رہا ہے، وہ قانونِ فطرت (Law of Nature) ہے۔ 15 مئی 1985 آخری زمانے میں حضرت مسیح کے نزول کے بارے میں جو روایات آتی ہیں ان میں بعض اختلافات پائے جاتے ہیں۔ مثلاً ابو داؤد کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ سَنَةً، ثُمَّ يُتَوَفَّى (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 4324) - حضرت مسیح دنیا میں 40 سال رہیں گے۔ پھر ان کی وفات ہوگی۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں: وَيَمْكُثُ خَمْسًا وَأَرْبَعِينَ سَنَةً، ثُمَّ يَمُوتُ (المنتظم فی التاریخ، جلد 2، صفحہ (39) ۔ یعنی اور وہ دنیا میں 45 سال رہیں گے۔ پھر ان کی وفات ہوگی۔ بظاہر دونوں روایتوں میں فرق ہے۔ مگر یہ محض لفظی فرق ہے، نہ کہ حقیقی فرق۔ یہ ایک اندازِ کلام ہے جو ہر زبان میں پایا جاتا ہے۔ شارحینِ حدیث نے اس کی توجیہہ یہ کی ہے کہ 40 سال والی روایت میں اوپر کا عدد حذف کردیا گیا ہے۔ عربی زبان میں اور دوسری زبانوں میں یہ عام لسانی قاعدہ ہے کہ کبھی کسر کا ذکر کرتے ہیں اور کبھی اس کو حذف کر دیتے ہیں۔ اس طرح اور بھی بہت سی مثالیں روایات میں پائی جاتی ہیں۔ بعض لوگ ان کو روایت میں اختلاف سمجھتے ہیں، اور حدیث میں شبہ کرنے لگتے ہیں۔ حالاں کہ یہ صرف اندازِ کلام کی بات ہے، اور اندازِ کلام کا یہ طریقہ ہر زبان میں پایا جاتا ہے۔ انڈیا کے مشہور انگریزی صحافی مسٹر خشونت سنگھ (پیدائش 1915) نے لکھا ہے کہ میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page