Urdu book · اوراقِ حکمت

اوراقِ حکمت

Urdu book, p. 97

By Maulana Wahiduddin Khan

ہو جائے تو زمین برف کی طرح ٹھنڈی ہو جائے۔ اور اگر سورج اور زمین کا فاصلہ آدھے کے بقدر کم ہو جائے تو زمین سورج کی گرمی سے جھلس اٹھے۔ یہی معاملہ دوسری چیزوں کا ہے۔ زمین پر پانی ہے جو کسی دوسرے کرہ پر موجود نہیں۔ زمین پر آکسیجن ہے جو اس طرح موزوں حالت میں اور کہیں نہیں پائی جاتی، وغیرہ وغیرہ۔ ذی حیات اشیا کے لیے زمین کی اس استثنائی موزونیت کا علم صرف زمانہ جدید میں ہو سکتا ہے۔ اس سے پہلے انسان اس بارے میں کچھ نہ جانتا تھا۔ ایسی حالت میں قرآن میں ڈیڑھ ہزار سال پہلے اس آیت کا ہونا ظاہر کرتا ہے کہ یہ خدائی کلام ہے۔ 1985 مئی 14 قدیم زمانہ میں شرک اس طرح پیدا ہوا کہ لوگوں نے جس چیز کو بظاہر نمایاں دیکھا، اسی کو خدا سمجھ کر وہ اسے پوجنے لگے چاند سورج کی پرستش اسی طرح شروع ہوئی۔ اس اعتبار سے شرک، مظاہر کائنات کو سبب کائنات قرار دینے کا دوسرا نام ہے۔ مثلاً قدیم عرب میں شعریٰ کی پرستش ہوتی تھی، جس کا ذکر قرآن کی سورہ النجم (آیت 49) میں آیا ہے۔ شعریٰ (Sirius) دکھائی دینے والے ستاروں میں سب سے زیادہ روشن ستارہ ہے۔ وہ سورج سے 23 گنا زیادہ روشن ہے، اور شمسی نظام سے اس کا فاصلہ آٹھ نوری سال سے زیادہ ہے۔ Sirius کا لفظ اصلاً یونانی زبان سے آیا، جس کے معنی چمک دار کے ہوتے ہیں۔ قدیم زمانہ میں مصر اور دوسرے مقامات پر شعریٰ کی پرستش کی جاتی تھی، اور زمین کی شادابی اور تجارتی سرگرمیاں اس سے منسوب کی جاتی تھیں۔ قدیم عرب کا ایک شاعر اپنے ممدوح کے بارے میں کہتا ہے ۔ وہ گرمی پہنچانے والا ہے ٹھنڈی میں، یہاں تک کہ جب شعریٰ (موسم بہار میں) طلوع ہوتا ہے، تو وہ (لوگوں کے لیے) ٹھنڈک اور سایہ بن جاتا ہے: شَامِسُ فِي الْقَرِّ حَتَّى إِذَا مَا ذَکَبَتِ الشِّعْرَى فَبَرْدٌ وَظِلٌّ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page