عورت معمارِ انسانیت
Urdu book, p. 41
By Maulana Wahiduddin Khan
رائے دو۔ میں کسی معاملہ کا فیصلہ نہیں کرتی جب تک تم لوگ موجود نہ ہو۔ انہوں نے کہا، ہم لوگ زور آور ہیں اور سخت لڑائی والے ہیں اور فیصلہ آپ کے اختیار میں ہے۔ پس آپ دیکھ لیں کہ آپ کیا حکم دیتی ہیں۔ ملکہ نے کہا کہ بادشاہ لوگ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو اُس کو خراب کر دیتے ہیں اور اس کے عزت والوں کو ذلیل کر دیتے ہیں۔ اور یہی یہ لوگ کریں گے (16:28-34)۔ قرآن کی ان آیات میں ایک خاتون کی زبان سے یہ بتایا گیا ہے کہ سیاسی اختلاف کے معاملہ میں صحیح پالیسی کیا ہے۔ جب ایسا ہو کہ یہ اختلاف دو ایسے سیاسی گروہوں کے درمیان ہو جن میں سے ایک نسبتاً کمزور ہو اور دوسرا نسبتاً زیادہ طاقت ور ہو تو ایسی حالت میں صحیح پالیسی یہ ہے کہ ٹکراؤ کو اوائڈ (avoid) کیا جائے۔ کیوں کہ اس طرح کے ٹکراؤ کا نتیجہ ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ایک گروہ کی یک طرفہ تباہی پر ختم ہوتا ہے۔ ایسے ٹکراؤ میں صرف یہ نہیں ہوتا کہ دو لڑنے والی فوجیں ایک دوسرے کو قتل کریں ۔ بلکہ اس قتال کے دوران بے گناہ لوگ بھی مارے جاتے ہیں۔ اور عزت والے لوگ بے عزت کیے جاتے ہیں۔ یہ معاملہ اتنا عام ہے کہ مذکورہ آیت کے مطابق ، اگر حضرت سلیمان مُلک سبا پر حملہ کرتے تو وہ بھی ایسا ہی کرتے ۔ چنانچہ یہاں قرآن میں وَ كَذَلِكَ يَفْعَلُونَ (27:34)۔ یعنی، وہ بھی ایسا ہی کریں گے ، کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ ایسی حالت میں صحیح پالیسی وہی ہے جو ملکہ سبا نے حضرت سلیمان کے مقابلہ میں اختیار کی۔ یعنی ٹکراؤ کو اوائڈ کرنا اور مصالحت کے ذریعہ اپنے قومی مفادات کو محفوظ رکھنا۔ 23- عورت کا میدانِ کار قرآن میں حضرت موسیٰ کا قصہ تفصیل کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ اس قصہ کا ایک جز یہ ہے کہ اُنہیں بعض اسباب سے مُلک مصر چھوڑنا پڑا۔ وہ یہاں سے مدین کی طرف روانہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader