Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت معمارِ انسانیت

Urdu book, p. 44

By Maulana Wahiduddin Khan

25۔ عورت کی ذمہ داری قرآن میں ازواجِ رسول کی ذمہ داریاں بتاتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: اے پیغمبر کی بیویو، تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو۔ اگر تم اللہ سے ڈرو تو تم لہجہ میں نرمی نہ اختیار کرو کہ جس کے دل میں بیماری ہے وہ لالچ میں پڑ جائے اور معروف کے مطابق بات کہو۔ اور تم اپنے گھر میں قرار سے رہو اور سابقہ جاہلیت کی طرح دکھلاتی نہ پھرو۔ اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ اللہ تو چاہتا ہے کہ وہ تم اہلِ بیت سے آلودگی کو دور کرے اور تم کو پوری طرح پاک کر دے (33:32-33)۔ قرآن کا یہ بیان بظاہر پیغمبر کی ازواج کے بارے میں ہے۔ مگر اپنے وسیع مفہوم کے اعتبار سے وہ ان تمام خواتین کے بارے میں ہے جو اپنی ذاتی ذمہ داریوں کے ساتھ سماجی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کا بھی جذبہ رکھتی ہوں اور اس بنا پر ان کا تعلق (interaction) مردوں سے بھی پیش آتا ہو۔ یہ خواتین وہ ہیں جو اپنے حالات اور اپنی صلاحیت کے لحاظ سے قیادت کی ذمہ داریاں ادا کرتی ہیں۔ ان آیات میں ان خواتین کو بتایا گیا ہے کہ انہیں کس قسم کے آداب کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔ ایسی خواتین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی نسوانی حیثیت کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی ذمہ داری ادا کریں۔ اس معاملہ میں وہ توازن کو نہ کھوئیں۔ 26۔ گھر ایک تعلیم گاہ قرآن میں ازواجِ رسول کی ذمہ داریوں کو بتاتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: اور تمہارے گھروں میں اللہ کی آیات اور حکمت کی جو تعلیم ہوتی ہے اس کا تذکرہ کرو۔ بے شک اللہ باریک بیں ہے، خبر رکھنے والا ہے (33:34)۔ قرآن کی اس آیت کا خطاب بظاہر ازواجِ رسول سے ہے مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page