عورت معمارِ انسانیت
Urdu book, p. 57
By Maulana Wahiduddin Khan
عورت حدیث میں حدیث کی کتابوں میں کتاب النساء جیسا کوئی چیپٹر نہیں ہوتا۔ تا ہم مختلف موضوعات کے تحت عورتوں کے بارے میں کثرت سے ایسی روایتیں آئی ہیں جو عورتوں کے متعلق اسلام کی تعلیم کو بتاتی ہیں ۔ ان روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت کا درجہ انسانی سماج میں کیا ہے ۔ یہاں حدیث کی مختلف کتابوں سے اس قسم کی کچھ روایتیں نقل کی جاتی ہیں ۔ یہ روایتیں بتاتی ہیں کہ اسلام کے نقشۂ حیات میں عورت کا مقام کیا ہے۔ 1۔ عورت نصف انسانیت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ عائشہ صدیقہ سے ایک مسئلہ پوچھا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس قسم کا ایک سوال کیا گیا تھا۔ اس مسئلہ کا جواب دیتے ہوئے آپ نے مزید فرمایا: اِنَّمَا النِّسَاءُ شَقَائِقُ الرِّجَالِ (سُنَن ابو داؤد، حدیث نمبر 236؛ سنن الترمذی، حدیث نمبر 113)۔ یعنی، عورتیں بلاشبہ مرد کا شقیقہ ہیں۔ شقیق یا شقیقہ عربی زبان میں، کسی چیز کے درمیان سے پھٹے ہوئے دو برابر برابر حصے کو کہتے ہیں۔ اسی سے دردِ شقیقہ بولا جاتا ہے۔ یعنی وہ درد جو سر کے آدھے حصہ میں ہو۔ اوپر کی روایت میں اسی مفہوم میں عورت کو مرد کا شقیقہ کہا گیا ہے۔ یہ عورت کی حیثیت کی نہایت صحیح تعبیر ہے۔ اسلام کے مطابق عورت اور مرد دونوں ایک گُل کے دو برابر برابر اجزاء ہیں۔ اس گل کا آدھا عورت ہے اور اُس کا آدھا مرد۔ اس اعتبار سے یہ بات عین درست ہوگی کہ عورت کو نصفِ انسانیت کا لقب دیا جائے۔ 2۔ اخلاق کا معیار عائشہ صدیقہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سب سے اچھا وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے اچھا ہو۔ اور میں اپنے گھر والوں کے لیے تم میں سب سے اچھا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader