فطرت کا نظام
Urdu book, p. 5
By Maulana Wahiduddin Khan
فطرت کا نظام فطرت کے نظام سے انحراف کا نام ناکامی ہے اور فطرت کے نظام سے مطابقت کا نام کامیابی۔ یہ زندگی کی تعمیر کا بنیادی اصول ہے۔ اس اصول کو سمجھے بغیر موجودہ دنیا میں کامیاب زندگی کی تعمیر نہیں کی جاسکتی۔ انسان کو یہ جاننا چاہیے کہ جس دنیا میں وہ رہ رہا ہے اس کو بنانے والا وہ خود نہیں ہے۔ دنیا کو خدا نے اپنے نقشہ کے مطابق بنایا ہے۔ انسان کو ہر حال میں اسی نقشہ سے مطابقت کرنا ہے۔ اگر کوئی شخص یا گروہ خود اپنے نقشہ کے مطابق رہنا چاہے تو اس کو ایک اور دنیا کی تخلیق کرنی پڑے گی۔ کیوں کہ موجودہ دنیا میں اس کے لیے دوسرا کوئی انتخاب سرے سے ممکن ہی نہیں۔ قوامیت کا اصول دنیا کو بنانے والے نے اس کا نظام اس طرح بنایا ہے کہ یہاں چیزوں کو متحد اور منظم انداز میں چلانے کے لیے ان کا ایک مرکز (nucleus) ہوتا ہے۔ یہی مرکز اس کے مختلف اجزاء کو جوڑ کر رکھنے کا ذریعہ ہوتا ہے: (nucleus) the central part of something around which other parts are collected or situated. مادہ کا ابتدائی یونٹ ایٹم ہے۔ ایٹم کے اندر منفی اور مثبت برقی ذرات ہوتے ہیں۔ ان متحرک ذرات کو باہم جوڑنے کا کام ایک نیوکلیس کرتا ہے جو ایٹم کے بیچ میں موجود ہوتا ہے۔ ٹھیک ایسا ہی معاملہ شمسی نظام (solar system) کا ہے۔ اس خلائی مجموعہ میں بہت سے سیارے (planets) اور سیارچے (asteroids) ہیں۔ ان تمام اجزاء کو جوڑنے والا سورج ہے۔ سورج اس مجموعہ کے درمیان ہے جس کے گرد تمام سیارے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader