فطرت کا نظام
Urdu book, p. 6
By Maulana Wahiduddin Khan
اور سیارچے مسلسل گھوم رہے ہیں۔ یہی نظام کائنات کی تمام چیزوں میں قائم ہے۔ مثال کے طور پر شہد کی مکھیوں کو لیجیے جو پورے معنوں میں ایک زندہ سماج کا نمونہ ہیں۔ یہ مجموعہ رات دن متحرک رہتا ہے۔ اس مجموعہ کو باضابطہ انداز میں متحرک رکھنے کا ذریعہ چھتہ کے اندر کی وہ بڑی مکھی ہوتی ہے جس کو رانی (queen bee) کہا جاتا ہے۔ شہد کی مکھیوں کے درمیان اگر ان کی کوئین موجود نہ ہو تو ان کا پورا نظام بکھر جائے گا۔ فطرت کا یہی قانون انسانی زندگی کے لیے بھی مطلوب ہے۔ اس قانون کا تعلق مرد اور مرد کے درمیانی معاملات سے بھی ہے اور عورت اور مرد کے درمیانی معاملات سے بھی۔ قرآن جو خالق فطرت کی کتاب ہے، اس میں ارشاد ہوا ہے: أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَتَ رَبِّكَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِيَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِيًّا (43:32)۔ یعنی کیا یہ لوگ تمہارے رب کی رحمت کو تقسیم کرتے ہیں۔ دنیا کی زندگی میں ان کے رزق کو تو ہم نے تقسیم کیا ہے اور ہم نے ایک کو دوسرے پر فوقیت دی ہے تاکہ تمہارا بعض تمہارے بعض کو خدمت گار بنائے۔ اسی اصول تنظیم پر انسانی زندگی کا پورا نظام چل رہا ہے۔ چنانچہ مزدوروں کے اوپر ایک سپروائزر ہوتا ہے، کمپنی میں ایک ڈائریکٹر ہوتا ہے، میٹنگ میں ایک چیر مین ہوتا ہے، آفس میں ایک باس (boss) ہوتا ہے، حکومت میں ایک صدر یا وزیراعظم ہوتا ہے، وغیرہ۔ اسی اصول پر زندگی کے تمام اجتماعی معاملات چلتے ہیں۔ ایسا نہ ہو تو زندگی میں انارکی (anarchy) پیدا ہو جائے اور کوئی معاملہ درست طور پر نہ چل سکے۔ خدا کے قانون کے مطابق ، عورت اور مرد یا بالفاظ دیگر خاندانی زندگی کا ڈھانچہ تنظیم کے اسی اصول پر قائم کیا گیا ہے۔ چنانچہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader