عورت معمارِ انسانیت
Urdu book, p. 61
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ حدیث اپنے وسیعی مفہوم کے اعتبار سے عورت اور مرد دونوں کے لیے ہے۔ عورت اور مرد دونوں ایک دوسرے کے لیے زندگی کے ساتھی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ ہر معاملہ میں ایک دوسرے کے رازداں ہیں۔ زندگی کا کاروبار چلانے کے لیے وہ ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے ایک گاڑی کے دو پہیے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایسی حالت میں انسانیت کا تقاضا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے لیے سچے رفیق ثابت ہوں۔ وہ ایک دوسرے کو خوش رکھنے کا اہتمام کریں ۔ وہ ایک دوسرے کی رعایت کرنے والے ہوں ۔ وہ غیر موجودگی میں بھی ایک دوسرے کے خیر خواہ بنے رہیں ۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے وہ کریں جو رفیق حیات کی حیثیت سے اُصولی طور پر انہیں ایک دوسرے کے لیے کرنا چاہیے۔ 7- عورت سرمایہ حیات عبداللہ بن عمرو کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا کی ہر چیز سامان ہے ۔ اور دنیا کا سب سے اچھا سامان نیک عورت ہے: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرُو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ الدُّنْيَا كُلُّهَا مَتَاعٌ، وَخَيْرُ مَتَاعِ الدُّنْيَا الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1467؛ سنن النسائی، حدیث نمبر 3232)۔ عورت اور مرد دونوں ایک دوسرے کے لیے زندہ متاع یا زندہ سرمایہ حیات کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے عورت اور مرد دونوں کو بہت سی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ شوہر اور بیوی کی صورت میں دونوں کو جو سرمایہ ملتا ہے وہ دوسری تمام چیزوں سے زیادہ قیمتی ہے۔ یہ حقیقت اگر دونوں کے دل میں بیٹھ جائے تو عورت اور مرد دونوں ایک دوسرے سے بے حد محبت کرنے والے بن جائیں گے ۔ دونوں یہ محسوس کرنے لگیں گے کہ وہ ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader