عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 62
By Maulana Wahiduddin Khan
دوسرے کو نظر انداز کرنے کا تحمل نہیں کر سکتے۔ دونوں کا یہ خیال ہو جائے گا کہ انہوں نے اگرا ایک دوسرے کی قدر نہ کی تو خودان کی اپنی زندگی ہی بے معنی ہو کر رہ جائے گی۔ دونوں ایک دوسرے کو اس طرح اپنی ضرورت سمجھیں گے جس کی تلافی کسی اور صورت میں ممکن نہیں۔ 8۔ سب سے بہتر خزانہ عبد اللہ بن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں تم کو نہ بتاؤں کہ آدمی کے لیے بہتر جمع کرنے والا مال کیا ہے۔ نیک عورت کو جب وہ اس کی طرف دیکھے تو وہ اس کو خوش کر دے۔ اور جب وہ اس کو حکم دے تو وہ اس کی اطاعت کرے۔ اور جب وہ موجود نہ ہو تو وہ اس کی حفاظت کرے: عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ مَا يَكْنِزُ؟ الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ إِذَا نَظَرَ إِلَيْهَا سَرَّتْهُ، وَإِذَا أَمَرَهَا أَطَاعَتْهُ، وَإِذَا غَابَ عَنْهَا حَفِظَتْهُ (مستدرک الحاكم، حدیث نمبر 1487)۔ اس حدیث میں عورت کی جو صفات بتائی گئی ہیں وہ کوئی سادہ صفات نہیں ہیں ۔ اس حدیث کو پوری طرح اُس وقت سمجھا جا سکتا ہے جب کہ اُس کو اس کے ظاہری الفاظ سے اوپر اُٹھ کر دیکھا جائے۔ جب کہ اٗس کو زندگی کے زیادہ گہرے پہلوؤں کے ساتھ جوڑ کر سمجھا جائے۔ مرد کے لیے عورت صرف اس کی گھریلو ساتھی نہیں ہے بلکہ وہ اس کے لیے سب سے بڑے خزانہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ انسان ایک سوچنے والی مخلوق ہے۔ انسان کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ کوئی ہو جو سوچنے کے عمل میں اُس کے ساتھ شیئر (share) کر سکے، جو پورے معنوں میں اس کا فکری رفیق (intellectual partner) بن جائے۔ عورت کسی مرد کی اسی ضرورت کو پورا کرتی ہے۔ وہ اُس کی ایک قابلِ اعتماد ذہنی رفیق ہے۔ کسی مرد کی بیوی ہی اس کی وہ ساتھی ہے جو اُس کو ہر صبح و شام حاصل رہتی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader