عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 67
By Maulana Wahiduddin Khan
ترجیحات (priorities) کو جانتے ہیں ۔ انہوں نے بے مقصد زندگی کا طریقہ چھوڑ کر با مقصد زندگی کے طریقہ کو اختیار کیا۔ انہوں نے حیوانی سطح کی زندگی سے اوپر اٹھ کر انسانی سطح کی زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو دنیا میں بھی خدا کا انعام ملتا ہے اور آخرت میں بھی وہ خدا کے انعام کے مستحق قرار پائیں گے۔ قرآن کے الفاظ میں وہ حسنات دنیا کے بھی حصہ دار ہیں اور حسنات آخرت کے بھی حصہ دار۔ 11۔ زندگی کی عظیم نعمت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چار چیزیں ہیں جن کو وہ دی گئیں تو اس کو دنیا اور آخرت کی تمام بھلائی دے دی گئی۔ شکر کرنے والا دل اور ذکر کرنے والی زبان اور مصیبتوں پر صبر کرنے والا بدن اور ایسی بیوی جو اپنے نفس اور اس کے مال میں کوئی خیانت نہ کرے: عَنِ ابْنِ عَبّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلّمَ، قَالَ: أَرْبَعٌ مَنْ أُعْطِيَهُنَّ فَقَدْ أُعْطِيَ خَيْرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ: قَلْبٌ شَاكِرٌ، وَلِسَانٌ ذَاكِرٌ، وَبَدَنٌ عَلَى الْبَلَاءِ صَابِرٌ، وَزَوْجَةٌ لَا تَبْغِيهِ خَوْنًا فِي نَفْسِهَا وَلَا مَالِهِ (شعب الایمان للبیھقی، حدیث نمبر 4115)۔ ایسی بیوی جس کے نفس اور اپنے مال میں اس کو کوئی ڈر نہ ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی بیوی جس کے اوپر آدمی کو پورا اعتماد ہو۔ یہ اعتماد ہمیشہ دو طرفہ ہوتا ہے۔ سب شوہر اور بیوی دونوں ایک دوسرے کو آخری حد تک اپنا سمجھ لیں تو اُس وقت دونوں کے درمیان غیریت کا فرق بالکل مٹ جاتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو اس طرح دیکھنے لگتے ہیں کہ جیسے کہ دونوں کے درمیان ’میں‘ اور وہ‘ کا فرق مٹ گیا ہو۔ دونوں کی شخصیت ایک دوسرے میں ضم ہو کر ایک زندہ گل بن گئی ہو۔ عورت اور بیوی کے درمیان اپناپن کا یہی ماحول دونوں کے لیے سب سے بڑی نعمت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader