عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 68
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے۔ جب دونوں کے درمیان اس طرح کا تعلق قائم ہو جائے تو دونوں یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ دنیا میں وہ اکیلے نہیں ہیں بلکہ گو یا پوری انسانیت اُن کے ساتھ ہے۔ ہر ایک یہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ میرے باہر کا پورا عالم میرے ساتھ زندگی کے سفر میں شریک ہو گیا ہے۔ یہ احساس دونوں کے اندر اتنا زیادہ حوصلہ پیدا کر دیتا ہے کہ اس کے بعد انہیں کوئی بھی چیز ناممکن نظر نہیں آتی۔ عورت کسی مرد کے لیے سب کچھ اُس وقت بنتی ہے جب کہ وہ محسوس کرے کہ مرد بھی اُس کے لیے اُس کا سب کچھ بن گیا ہے۔ باہمی اعتماد کا یہ معاملہ بلا شبہ دو طرفہ ہے۔ فطری قوانین کے تحت یہ معاملہ یک طرفہ طور پر قائم نہیں ہو سکتا۔ 12۔ رعایت کا معاملہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ کیوں کہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور پسلی میں سب سے زیادہ ٹیڑھا اس کے اوپر کے حصہ میں ہوتی ہے۔ اگر تم اس کو سیدھا کرنے لگو تو تم اس کو توڑ دو گے اور اگر تم اس کو چھوڑ دو تو وہ ویسی ہی رہے گی۔ پس تم عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی میری نصیحت قبول کرو: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ، فَإِنَّ المَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ، وَإِنَّ أَعْوَجَ شَيْءٍ فِي الضِّلَعِ أَعْلَاهُ، فَإِنْ ذَهَبْتَ تُقِيِمُهُ كَسَرْتَهُ، وَإِنْ تَرَكْتَهُ لَمْ يَزَلْ أَعْوَجَ، فَاسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3331)۔ اس حدیث میں جو بات کہی گئی ہے وہ خاتونِ اول حوّا کے طریقِ تخلیق کے بارے میں نہیں ہے۔ بلکہ وہ عورت کے عام مزاج کو بتاتی ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، پسلی کی ہڈی کی قدر ٹیڑھی ہوتی ہے۔ اس کا ٹیڑھا ہونا اس کا نقص نہیں ہے، بلکہ یہی اس کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader