عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 71
By Maulana Wahiduddin Khan
أصُولی اہمیت کا شعور زندہ ہو۔ خدا کا خوف اسی شعور کو بیدار کرتا ہے۔ اور پھر یہ شعور اس بات کی ضمانت بن جاتا ہے کہ غیر موافق اسباب کے باوجود دونوں کے درمیان رفاقت کا تعلق کبھی ٹوٹنے نہ پائے۔ 15۔ عورت ماں کی حیثیت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے: اَلْجَنَّةُ تَحْتَ أَقْدَامِ الْأُمَّهَاتِ (مُسند الشّهاب القضاعی، حدیث نمبر 119)۔ عورت ماں کی حیثیت سے اپنی اولاد کی سب سے بڑی محسن ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے انسان کے اوپر ماں کا درجہ سب سے زیادہ ہے۔ اس حدیث میں دراصل اس حقیقت پر زور دیا گیا ہے کہ محسن کے احسان کا اعتراف سب سے بڑی نیکی (virtue) ہے۔ اس نیکی کی اسپرٹ جس کے اندر ہو اس کے اندر بیک وقت دو صفتیں موجود ہوں گی۔ انسان کی نسبت سے اُس کے حسن سلوک کا گہرا اعتراف اور خدا کی نسبت سے اُس کے احسان کا گہرا شکر۔ یہی صفت کسی انسان کے لیے جنت میں داخلہ کا سب سے بڑا استحقاق ہے۔ 16۔ لڑکیوں کی تربیت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے تین لڑکیوں کی پرورش کی، ان کو ادب سکھایا، اُن کی شادی کی اور اُن کے ساتھ اچھا سلوک کیا تو اس کے لیے جنت ہے: مَنْ عَٰلَ ثَلَاثَ بَنَاتٍ، فَأَدَّبَهُنَّ، وَزَوَّجَهُنَّ، وَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ، فَلَهُ الْجَنَّةُ (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 5147)۔ عام مزاج یہ ہے کہ اگر کسی باپ کے یہاں کئی لڑکیاں ہوں اور کوئی لڑکا نہ ہو تو وہ لڑکیوں کو بے قدر کر دیتا ہے۔ اس حدیث میں اسی ذہن کی تردید کی گئی ہے۔ کسی باپ کے یہاں لڑکا پیدا ہو یا لڑکی، دونوں حالتوں میں باپ کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کو بہترین تعلیم دے۔ وہ اُن کو ایسی تربیت دے جو اُن کے لیے زندگی گزارنے میں مددگار بنے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader