Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 73

By Maulana Wahiduddin Khan

18 بے سہارا لڑکیوں کی خدمت سراقہ بن مالک کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں تم کو نہ بتاؤں کہ افضل صدقہ کیا ہے۔ تمہاری لڑکی جو (بیوی یا طلاق کی وجہ سے) تمہاری طرف لوٹادی جائے۔ تمہارے سوا کوئی اس کے لیے کمانے والا نہ ہو : عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى أَفْضَلِ الصَّدَقَةِ؟ ابْنَتُكَ مَرْدُودَةٌ إِلَيْكَ، لَيْسَ لَهَا كَاسِبٌ غَيْرُكَ (سنن ابن ماجه، حدیث نمبر 3667) ۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک عورت طلاق کی وجہ سے یا بیوہ ہو جانے کی وجہ سے اپنے سسرال میں رہ نہیں سکتی اور وہاں سے واپس ہو کر وہ اپنے باپ کے پاس آ جاتی ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایسی عورت سماج میں بے سہارا بن جاتی ہے۔ لیکن اس کا بے سہارا ہونا اس کے والدین کے لیے اخلاقی خدمت کا ایک اعلیٰ موقع عطا کرتا ہے۔ اگر اس کے والدین ایسی خاتون کو دوبارہ قبول کر لیں، اُس کے لیے نئی زندگی کے مواقع تلاش کریں، اُس کو پھر سے سماج کا ایک با عزت ممبر بنانے کی کوشش کریں، اُس کو از سر نو ایک کامیاب زندگی گزارنے کے قابل بنائیں تو اُن کا یہ عمل خدا کے یہاں ایک عظیم عمل شمار کیا جائے گا اور وہ اپنے اس عمل کی بنا پر آخرت کی دنیا میں خدا کے عظیم تر انعام کے مستحق قرار پائیں گے۔ 19 نجات کا ذریعہ عائشہ صدیقہ کی ایک طویل روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ جس شخص کو لڑکیوں کے ذریعہ کچھ آزمائے پھر وہ اُن کے ساتھ اچھا سلوک کرے تو وہ اس کے لیے آگ سے بچاؤ کا ذریعہ ہوں گی: مَنِ ابْتُلِيَ مِنَ الْبَنَاتِ بِشَيْءٍ، فَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2629)۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کسی سبب سے ایک لڑکی اپنے والدین کے لیے سرمایہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page