عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 74
By Maulana Wahiduddin Khan
(asset) کے بجائے بوجھ (liability) محسوس ہونے لگتی ہے۔ مگر اسلام کی تعلیم کے مطابق، ایسی لڑکی اپنے ماں باپ کے لیے ایک اور پہلو سے بہت بڑی محنت ہے۔ وہ والدین کے لیے آخرت کے زیادہ بڑے انعامات حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ تاہم یہ بات اتनी سادہ نہیں۔ یہ دراصل عُسر میں یسر کی ایک صورت ہے۔ والدین اگراپنی لڑکی کے لیے اچھی تعلیم و تربیت کا اہتمام کریں اور اُس کوزندگی کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے قابل بنائیں تو عین ممکن ہے کہ وہ لڑکی تیار ہو کر اپنے خاندان کے لیے ایک نعمت بن جائے۔ اُس کے ذریعہ سے خاندان میں مثبت طرزِ فکر پروان چڑھے۔ اُس کے ذریعہ سے گھر میں تعمیری ماحول پیدا ہو۔ وہ لڑکی اپنے خاندان کی ایک صحت مند ممبر بن کر خاندان کی ترقی کا ذریعہ بنے۔ اس قسم کا کام ابتدائی طور پر اگرچہ اُخروی انعام کے جذبہ کے تحت شروع کیا جاتا ہے مگر اپنے نتیجہ کے اعتبار سے وہ خود دنیا کی تعمیر کا بہترین ذریعہ بن جاتا ہے۔ وہ ہر اعتبار سے خاندان کے لیے مفید ہوتا ہے، دین کے اعتبار سے بھی اور دنیا کے اعتبار سے بھی۔ 20_ عورتوں سے مشورہ حسن بصری تابعی نے ستر سے زیادہ صحابہ کو دیکھا تھا اور اُن سے سُنا تھا۔ وہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بتاتے ہیں کہ آپ کا طریقہ تھا کہ آپ کثرت سے مشورہ کرتے تھے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورت سے بھی مشورہ کرتے تھے، اور عورت کبھی ایسی رائے دیتی تھی جس کو آپ قبول کر لیتے: کَانَ النبی صلی اللہ عليه وسلم يستشير حتى المرأة، فتُشير عليه بالشيءِ فيأخُذ به (عيون الأخبار لِابن قتيبه، جلد 1، صفحه 82)۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اُسوۃ محدود معنوں میں نہیں ہے۔ وہ وسیع معنوں میں ہے۔ اُس کا تعلق زندگی کے تمام معاملات سے ہے۔ کسی کو مشیر کا درجہ دینا اس کو ایک باعزت درجہ دینا ہے۔ ایسی حالت میں عورت کو مشیر بنانے کا مطلب یہ ہے کہ عورت کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader