Urdu book · عظمتِ اسلام

نظریاتی سپر پاور

Urdu book, p. 11

By Maulana Wahiduddin Khan

تاریخ کا تجربہ نظریہ کی فوقیت کو ثابت کرتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ نظریہ نہ صرف ایک طاقت ہے بلکہ وہ سب سے بڑی طاقت ہے۔ امریکہ کے ایک ادارہ نے اپنے جائزہ (ٹائمکس آف انڈیا اکتوبر (۱۹۸۹) میں پایا ہے کہ ان کے سوال نامہ کا جواب دینے والے امریکیوں میں ۶۳ فی صد ایسے لوگ تھے جن کا خیال تھا کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی کے لیے سب سے بڑا چیلنج اب سوویت یونین کا فوجی خطرہ نہیں ہے بلکہ سب سے بڑا چیلنج وہ اقتصادی خطرہ ہے جو جاپان جیسے ملکوں کی طرف سے پیش آرہا ہے : مگر دولت اور طاقت کا اتنا بڑا ذخیرہ جمع کر لینے کے باوجود جاپان عالمی سطح پر وہ اہمیت حاصل نہ کر سکا جو بظاہر اسے حاصل کرنا چاہیے ۔ اس کی وجہ کیا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جاپان کے پاس اقتصادی طاقت ہے مگر جاپان کے پاس نظریہ نہیں ۔ یہی بات ہے جو امریکی بینکر مسٹر مرقی (W. Taggart Murphey) نے اس طرح کہی کہ جاپان ایک ایسی سوسائٹی ہے جس کی حیثیت طاقت بغیر مقصد (Power without purpose) کی ہے ۔ جاپان کے پاس دنیا کو دینے کے لیے کوئی چیز نہیں ، سوا اپنے بارہ میں انوکھے پن کے ایک تصور کے : سیاسی طاقت یا فوجی طاقت بظاہر بہت بڑی چیز معلوم ہوتی ہے ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ نظریہ کی طاقت اس سے بھی زیادہ بڑی ہے ۔ مادی طاقت نظریہ کے بغیر بے حقیقت ہے ۔ جب کہ نظریہ کا معاملہ یہ ہے کہ وہ مادی طاقت کے بغیر بھی ناقابل تسخیر طاقت کی حیثیت رکھتا ہے ۔ جس گروہ کے پاس ایک نظریہ ہو ، جو انسانوں کو ایک اعلیٰ مقصد کا تصور دے سکتا ہو ۔ وہ سب سے بڑی چیز کا مالک ہے ۔ وہ خود اپنی بنیاد پر کھڑا ہو سکتا ہے ، وہ ہر چیلنج کا مقابلہ کر کے آگے بڑھ سکتا ہے ۔ نظریہ دوسری چیزوں پر قیادت کرتا ہے ، دوسری چیزیں نظریہ کے اوپر قائد نہیں بن سکتیں ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page