برتر طاقت
Urdu book, p. 12
By Maulana Wahiduddin Khan
برتر طاقت قاہرہ کے عربی جریدہ آخر ساعة ( ۲۱ رجب ۱۴۱۱ھ) نے لکھا ہے کہ اگست ۱۹۹۰ء میں جب عراق نے کویت پر حملہ کیا تو اس کے بعد قاہرہ میں ڈاکٹر احمد الرائف کے مکان پر نشستیں ہونے لگیں۔ اس میں عرب علماء اور مفکرین کا منتخب طبقہ شرکت کرتا تھا۔ ایک روز مصری اہل علم کی ایک تعداد بیٹھی ہوئی تھی۔ گفتگو کا موضوع صدام حسین کی ضد اور ہٹ دھرمی اور اس کے نتیجہ میں آنے والی تیسری قحط سالی تھی۔ اس دوران طاقت کے موضوع پر بحث چھڑگئی۔ ایک جارحیت تھی اور یہ کہ اس کے نتیجہ میں امت مسلمہ کے بڑے بڑے سیاسی اور اقتصادی اور مذہبی مسائل میں مبتلا ہو گئی ہے۔ ہر ایک اس خلیجی بحران پر اظہار افسوس کر رہا تھا اور اپنے اپنے نقطہ نظر سے اس پر اظہار خیال کر رہا تھا۔ انھیں میں سے ایک ڈاکٹر زغلول النجار تھے ۔ وہ ریاض کی جامعۃ الامام محمد بن سعود میں استاد ہیں۔ وہ انگریزی بھی اچھی جانتے ہیں۔ امریکی فوجیں جب حفر الباطن (سعودی عرب) میں ٹھہری ہوئی تھیں ، اس وقت سعودی حکومت نے ڈاکٹر زغلول النجار کو حفر الباطن بھیجا تھا تاکہ وہ ان کے سامنے اسلام پر کچھ دیں۔ اس کی فرمائش خود امریکی فوجیوں نے کی تھی۔ ڈاکٹر نجار نے کہا کہ موجودہ بحران بلاشبہ ایک سخت نامبارک واقعہ ہے۔ مگر میں آپ کو اس تاریک صورت حال میں ایک مبارک خبر سنانا چاہتا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ امریکی ایر فورس کے چیف نے مجھ کو مدعو کیا تھا اور فرمائش کی تھی کہ میں مشرق وسطیٰ کی تہذیب و ثقافت اور اس کے عقائد کے موضوع پر امریکی فوجوں کے سامنے لکچر دوں تاکہ وہ اس علاقہ کے لوگوں کے مذہب و تہذیب سے واقف ہو سکیں۔ اس موضوع میں اسلام اپنے آپ شامل تھا۔ چنانچہ میں نے اپنے لکچر میں ان کے سامنے اسلام کی تعلیمات کا تعارف کرایا اور ان کو اسلامی قدروں سے واقف کرایا۔ امریکی ایر فورس کے جنرل نے نہایت احترام کے ساتھ میرا استقبال کیا اور فوجیوں نے بہت توجہ کے ساتھ میری باتوں کو سنا۔ جب میں نے اپنا لکچر ختم کیا تو ایک عجیب واقعہ ہوا۔ ایک امریکی پائلٹ اپنے ہزاروں ساتھیوں کے درمیان سے اٹھا اور اسی وقت اپنے قبولِ اسلام کا اعلان کیا۔ اس نے اپنے متعلق اظہار خیال

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader