نیا مستقبل
Urdu book, p. 24
By Maulana Wahiduddin Khan
نیا مستقبل اسلام اللہ تعالیٰ کا آخری دین ہے۔ اس کو ہر حال میں محفوظ اور قائم رہنا ہے۔ اس لیے شروع سے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ بڑا عجیب رہا ہے۔ ساتویں صدی عیسوی میں جب اسلام کو مکہ سے نکالا جارہا تھا تو وہ مدینہ میں داخل ہو کر اپنے لیے عالمی فتوحات کے دور کا آغاز کر رہا تھا۔ عباسی دور میں جب تاتاریوں نے خلافت کے قلعہ کو مسمار کر دیا تو اسی قلعہ کے ملبہ سے وہ نیا شاندار دور بر آمد ہو گیا جو ترکی میں عثمانی خلافت اور برصغیر ہند میں مغل شہنشاہیت کے روپ میں ظاہر ہوا ۔ آج بیسویں صدی عیسوی کے آخر میں اسلام دوبارہ ایک نئے عہد کے دروازہ پر کھڑا ہوا ہے ، ایک ایسا دروازہ جس میں داخل ہو کر خدا کا دین پوری دنیا کو روشنی اور زندگی دینے کا ذریعہ بن جائے ۔ برصغیر ہند کے سیاسی لیڈروں نے ۱۹۴۲ میں کوئٹ انڈیا (Quit India) کا نعرہ دیا تھا ۔ یعنی اے انگریزو ، ہندوستان چھوڑ دو ۔ اس نعرہ کے بعد انگریز کی عظیم شہنشاہیت ہل گئی۔ یہاں تک کہ صرف پانچ سال کے اندر ، ۱۹۴۷ میں اس کو مکمل طور پر ہندوستان کو چھوڑ دینا پڑا۔ وہ ہندوستان کو ہندوستانیوں کے حوالے کر کے اس ملک سے واپس چلے گئے ۔ آج یہ واقعہ بالکل سادہ سا معلوم ہوتا ہے ۔ مگر ۱۹۴۷ سے پہلے یہ ایک انوکھا واقعہ تھا حجی کہ بہت سے لوگ آخر وقت تک اس پر یقین کرنے کے لیے تیار نہ تھے ۔ ۱۹۴۷ میں میں کانپور میں تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس وقت کا نپور کے ایک اردو اخبار نے اپنے ایڈیٹوریل میں لکھا تھا کہ انگریز آزادی کی بات کر کے ہندوستانیوں کو بے وقوف بنا رہا ہے ۔ بھلا وہ اس سونے کی چڑیا کو چھوڑ کر یہاں سے جا سکتا ہے۔ مگر پندرہ اگست ، ۱۹۴۷ کو ساری دنیا نے جان لیا کہ یہ انوکھا واقعہ ہو گیا اور انگریز ہندوستان کو ہندوستانیوں کے حوالے کر کے چلا گیا۔ اسی طرح آج اسلام کے احیاء کے لیے بھی شاندار امکانات موجود ہیں۔ جو لوگ صرف ظاہری چیزوں کو دیکھنے والی نظر رکھتے ہیں۔ انھیں اس قسم کی بات محض خوش فہمی معلوم ہوتی ہے۔ مگر حالات کو زیادہ گہرائی کے ساتھ دیکھیے تو یہ بات عین ہونے والی بات نظر آنے لگے گی ۔ آج ہمیشہ سے زیادہ یہ موقع ہے کہ اسلام کو دوبارہ عالمی فکری طاقت کا درجہ دیا جا سکے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader