نیا مستقبل
Urdu book, p. 25
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ زمانہ میں بے شمار تمدنی اور سائنسی ترقیاں وجود میں آئی ہیں۔ یہ ترقیاں کیسے وجود میں آئیں۔ یہ سب کی سب شرک (مظاہر پرستی) کے خاتمہ اور توحید کے غلبہ کے نتیجہ میں پیدا ہوئیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ یہ ترقیاں اگرچہ آج بظاہر مادی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہی ہیں مگر حقیقہ وہ دینی مقصد کے لیے تھیں ۔ وہ دین کے کام کے لیے دینی انقلاب کے ذریعہ ظہور میں آئیں۔ موجودہ تمدنی اور سائنسی ترقی دین کی معاون ترقی کی حیثیت رکھتی ہے ۔ یہ تمام ترقیاں درحقیقت دعوت دین کے نئے امکانات تھے ۔ یہ خدا کے داعیوں کی راہ سے ہر قسم کی مشکلات کو ہٹا کر ان کے کام کو سہل بنانا تھا۔ اس اعتبار سے یہ تمام ترقیاں گویا اس دعا کی تکمیل ہیں جو قرآن میں ان الفاظ میں سکھائی گئی تھی : ربنا ولا تحمل علینآ اصر کما حملتہ علی الذین من قبلنا (خدایا، ہمارے اوپر وہ بوجھ نہ ڈال جو تو نے ہم سے پہلے کی امتوں پر ڈالا تھا) موجودہ انقلاب کے نتیجہ میں انتہائی نئے دعوتی امکانات کھل گئے جنھوں نے دعوتِ حق کے کام کو بالکل آسان بنا دیا، یہ سارے نئے امکانات اسی دعا کی قبولیت کے ہم معنی ہیں۔ جدید مواصلات اس لیے ہیں کہ حق کی آواز کو انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ سارے عالم میں پھیلایا جائے۔ جدید انکشافات اس لیے ہیں کہ ان کے ذریعہ سے توحید کی دعوت کو سائنٹفک سطح پر مدلل کر کے پیش کیا جائے۔ جمہوری انقلاب اس لیے آیا کہ کسی رکاوٹ کے بغیر دعوت کے کام کو جاری کیا جاسکے۔ جغرافی فاصلے اس لیے کم کیے گئے کہ خدا کے سفیر تیز رفتاری کے ساتھ سفر کر کے ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ سکیں اور قبل اس کے کہ موت کا فرشتہ لوگوں کے پاس آئے انھیں زندگی کے بارہ میں خدا کی اسکیم سے باخبر کر دیں۔ اس انقلاب میں دنیوی فائدے کی حیثیت ایک مزید فائدے کی تھی۔ زندگی کی آسائشیں، وسیع تجارت کے امکانات، وغیرہ سب در حقیقت ضمنی فائدے تھے۔ وہ اصل دعوتی کام کی دنیوی مزدوری تھے۔ مگر اصل کام ہو نے سے رہ گیا اور ساری دوڑ دھوپ صرف مزدوری وصول کرنے پر تـکـزہوگئی۔ دورِ جدید اپنے تمام نئے امکانات کے ساتھ اہل اسلام کو پکار رہا ہے کہ اٹھو اور نئے مواقع کو استعمال کر کے آج کی دنیا میں اسلام کی اشاعت کرو۔ اسلام کی فکر اور اس کی تعلیمات کو ساری دنیا میں پھیلا دو۔ جدید دنیا کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ اس کو رب العالمین کے بے آمیز دین سے آگاہ کیا جائے، اور یہ بے آمیز دین آج اسلام کے سوا اور کہیں موجود نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader