مطلوب فطرت
Urdu book, p. 32
By Maulana Wahiduddin Khan
مطلوب فطرت ایک فارسی شاعر کا شعر ہے کہ صحرا کے تمام ہرن اپنا سراپنے ہاتھ پر لیے پھرتے ہیں کہ تم کسی دن آؤ اور ان کا شکار کرو : ہمہ آہوان صحرا سر خود نہادہ بر کف بامید آن که روزی به شکار خواهی آمد شاعر نے یہ شعر جس معنی میں بھی کہا ہو، مگر ایک معنی میں وہ نہایت صحیح ہے ۔ اور وہ انسان کی فطری طلب ہے جو انسان کے اندر فطری طور پر موجود ہے کہ وہ اپنے محبوب کو تلاش کرے اور اس کا شکار کرے ہے ۔ ہر انسان کے اندر سچی طور پر یہ طلب موجود ہے کہ وہ اپنے حامی و پائے اور اس کا پرستار بن جائے۔ یہ طلب ہر آدمی کے اندر اس طرح پیوست ہے کہ وہ اس کو نکال نہیں سکتا۔ تمام مذاہب جن کو سچے پیغمبروں نے پیش کیا، وہ اسی مطلوب خدا کا تعارف تھے۔ مگر پچھلے مذاہب میں تبدیلی اور آمیزش کی وجہ سے ان کا خالص پن باقی نہ رہا ۔ اب صرف اسلام ہے جس میں خدا کا صحیح اور بے آمیز تعارف موجود ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ آج تمام دنیا کے انسان اسلام کی تلاش میں ہیں ۔ انسان کے اندر خدا کی پیدائشی طلب ہے ، اور اسلام وہ واحد مذہب ہے جس میں خدا کا تعارف اور اس کی مرضی کسی ملاوٹ کے بغیر موجود ہے ۔ ان دونوں باتوں کو ملائیے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل اسلام کے پاس سب سے قیمتی چیز اسلام ہے ۔ اسلام گویا فاتح عالم ہے ۔ اسلام فاتح انسانیت ہے ۔ اسلام کی صورت میں اہل اسلام کے پاس ایک ایسی چیز موجود ہے جو عصا موسیٰ سے بھی زیادہ طاقت ور ہے ۔ وہ اس کے ذریعہ ہر آدمی کے دل کو مسخر کر سکتے ہیں ۔ خواہ وہ کسی بھی ملک کا رہنے والا ہو، اور خواہ وہ کوئی بھی زبان بولتا ہو ۔ اس دنیا میں ہر انسان آہوئے فطرت ہے ۔ ہر انسان اس سچائی کی تلاش میں ہے جس کے بغیر اس کی شخصیت نا تمام ہے ۔ اسلام اسی سچائی کا مستند ترین ایڈیشن ہے ۔ اس اعتبار سے ہر انسان گویا اس انتظار میں ہے کہ اسلام کے حاملین آئیں اور اس کے سامنے خدا کے سچے دین کو پیش کریں ، اور اس کی روح اس کو عین اپنا مطلوب سمجھ کر اسے اختیار کرلے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader