Urdu book · عظمتِ اسلام

مطلوب فطرت

Urdu book, p. 33

By Maulana Wahiduddin Khan

زید بن عمرو بن نفیل بن عبد العزی (م ۶۰۶ء) قدیم مکہ کے ایک باشندہ تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پانچ سال پہلے ان کا انتقال ہو گیا ۔ وہ عہد جاہلیت کے ان افراد میں سے تھے جن کو حنیف کہا جاتا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں ان کو متلاشی حق کہا جا سکتا ہے ۔ ان کا ایک شعر یہ ہے : أَرَبّاً وَاحِداً أَمْ أَلْفَ رَبٍّ أَدِينُ إِذَا تَقَسَّمَتِ الْأُمُورُ میں ایک رب کی یا ہزار رب کی عبادت کروں ، جیسا کہ انھیں بانٹ دیا گیا ہے وہ اپنے آبائی مذہب سے غیر مطمئن تھے۔ حق کی تلاش میں وہ عرب کے باہر شام وغیرہ کے علاقوں میں گھومتے رہے۔ مگر انھیں حق نہیں ملا۔ وہ یہ کہتے ہوئے مریگے کہ اے اللہ، اگر میں جانتا کہ تیرا سب سے پسندیدہ طریقہ کیا ہے تو میں اسی طرح تیری عبادت کرتا مگر میں اس کو نہیں جانتا، پھر وہ اپنی سواری ہی پر سجدہ کرلیتے (اللّهُم انی لواسلم احب الوجوہ الیک عبدتك به ولكنّی لا اعلم مثمّ يسجد على رحلته) البدایة والنہایة ۲/ ۲۳۶ یہ ایک علامتی واقعہ ہے جو بتاتا ہے کہ ساتویں صدی عیسوی کے شروع تک دنیا کی حالت کیا تھی۔ اس وقت پوری انسانیت حق سے محروم تھی۔ ہر ایک سچائی سے محرومی کا احساس اپنے اندر لیے ہوئے تھا۔ جن لوگوں کی طلب زیادہ شدید تھی، وہ زید بن عمرو کی مانند بے چین تھے۔ اور جن لوگوں کی طلب اتنی شدت کے ساتھ نہیں ابھری تھی وہ زبان حال سے دینِ حق کے طالب بنے ہوئے تھے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے نسل انسانی کے ایک بہترین شخص محمد بن عبداللہ کو چُنا اور ان کو اپنا پیغمبر مقرر کیا تاکہ وہ عرب کو اور تمام اہلِ عالم کو امرِ حق سے آگاہ کریں۔ فرشتہ کے ذریعہ خدا کا کلام آپ پر اتارا گیا اور آپ نے اس کی تبلیغ و اشاعت کے کام میں ہمہ تن اپنے آپ کو وقف کر دیا۔ آج دوبارہ انسان قدیم حنفاء کی طرح یہی آواز دے رہا ہے ۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اس کام کے لیے اٹھیں، جو انسان کی اس پکار کا جواب فراہم کریں۔ انسانیت آج سب سے زیادہ ایسے ہی لوگوں کے انتظار میں ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page