دنیا انتظار میں ہے
Urdu book, p. 49
By Maulana Wahiduddin Khan
شراب کی ثابت شدہ خرابیوں کی بناء پر ۱۹۱۹ میں امریکہ کے دستور میں ۱۸ ویں ترمیم منظور کی گئی۔ اس کے مطابق ، شراب کو مکمل طور پر ممنوع قرار دیا گیا۔ مگر حکومت کے تمام ذرائع کو استعمال کرنے کے باوجود ملک سے شراب ختم نہیں ہوئی ۔ بلکہ غیر قانونی شراب کا کاروبار بہت بڑے پیمانے پر سارے ملک میں پھیل گیا۔ آخر کار حکومت نے ہار مان لی۔ ۱۹۳۳ میں دستور میں ۲۱ ویں ترمیم کی گئی۔ اس کے مطابق شراب کو دوبارہ ملک میں جائز قرار دے دیا گیا۔ (VIII/233) اس کے برعکس اسلام میں جب ہجرت کے بعد شراب کی باقاعدہ حرمت کا حکم ( المائدہ ۹۰) آیا اور مدینہ میں اس حکم کی منادی کی گئی تو فوراً ہی لوگوں نے شراب چھوڑ دی۔ جس کے پاس شراب کا ذخیرہ تھا اس کو اس نے زمین میں بہا دیا۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (م ۱۹۸۱) میں اس تاریخی واقعہ کا اعتراف اس طرح کیا گیا ہے کہ اسلام میں ساتویں صدی میں شراب پر مذہبی کنٹرول کا بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا گیا۔ قرآن نے سادہ طور پر شراب کی مذمت کی اور اس کا نتیجہ محمد کے پیروؤں پر ایک مؤثر پابندی کی صورت میں ظاہر ہوا ، عرب میں بھی اور دوسرے ملکوں میں بھی : انسانوں میں بظاہر رنگ اور نسل وغیرہ کا فرق پایا جاتا ہے۔ تاریخ کے پچھلے زمانوں سے اب تک بہت سے لوگوں نے اس فرق کو امتیاز کے ہم معنی سمجھ لیا اس کے نتیجہ میں اعلیٰ نسل اور ادنیٰ نسل کا تصور پیدا ہوا ۔ قرآن میں اس تصور کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے اعلان کیا گیا کہ مختلف انسانی گروہوں میں فرق کا سبب امتیاز نہیں ہے بلکہ اس کا سبب تعارف (الحجرات ۱۳) ہے ۔ اسی کے ساتھ اسلام نے عملی طور پر بے امتیاز سماج کا اعلیٰ نمونہ قائم کیا۔ مثلاً نماز کے لئے اذان پکارنے کا کام حبشی بلال کے سپرد کیا گیا۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (۱۵ / ۳۶۱) میں اعتراف کیا گیا ہے کہ اسلام نے جب مختلف ممالک افریقہ وغیرہ) فتح کئے تو کسی بھی مسلم ملک میں نسل کی بنیاد پر ذات پات کا نظام قائم نہ ہوسکا :

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader