کامل مذہب
Urdu book, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کے بعد قدرتی طور پر ایسا ہوتا ہے کہ انسان مطمئن ہونے کے بجائے حیرانی میں پڑ جاتا ہے۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ ایک ایسی ڈیزائن کیسے یہاں موجود ہے جس کا کوئی ڈیزائنر نہیں۔ ایک ایسا پلان کیسے یہاں پایا جاتا ہے جس کا کوئی پلانر نہیں۔ سائنس کی دریافت کردہ دنیا کی یہی کمی ہے جس کی بنا پر البرٹ آئ سٹائن سے لے کر ہاکنگ (Stephen Hawking) تک تمام سوچنے والے دماغ یہ محسوس کرتے رہے ہیں کہ کائنات میں بہت سے ایسے پہلو ہیں جن کو سمجھنا انتہائی حد تک دشوار ہے : اس فکری مشکل کو شر و ڈنگر نے اپنے الفاظ میں اس طرح بیان کیا ہے کہ فطرت کے بارہ میں سب سے زیادہ نا قابل فہم بات یہ ہے کہ وہ ناقابل فہم ہے : سائنس کے بعد دوسری چیز مذہب ہے۔ مگر قوموں کے پاس جو مذہب ہے وہ (اسلام کے سوا) سب کا سب محرف ہے۔ اس لیے وہ انسانی فطرت کو اپیل نہیں کرتا۔ سائنس اس بنا پر انسان کو فکری بنیاد نہ دے سکی کہ وہ نامکمل تھی۔ اور اس کا مذہب اس بنا پر اس کو فکری بنیاد دینے میں ناکام ہے کہ وہ محرف ہے۔ یہاں انسانیت کی امید صرف ایک ہے ، اور وہ اسلام ہے۔ آج اسلام ہی ایسا نظام فکر ہے جو انسان کی گنام ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔ وہ ایسا مذہب ہے جس میں کوئی تحریف نہیں ، وہ ایسا علم ہے جو سچی سائنس کے تمام پہلوؤں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ اسلام کا ٹکراؤ نہ انسانی فطرت سے ہے اور نہ حقیقی علم سے۔ آج کا انسان محرف مذہب اور نامکمل سائنس کی دو طرفہ مشکل کے درمیان جی رہا ہے۔ ان حالات میں انسان کی مشکل کا جواب صرف ایک ہے، اور وہ اسلام ہے۔ اگر اسلام کو وقت کی زبان اور وقت کے اسلوب میں پیش کر دیا جائے تو آج کا انسان دوڑ کر اس کو لے لے گا، کیوں کہ اس کی روح آج سب سے زیادہ اسی کی تلاش میں ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader