پیغمبر کی اہمیت
Urdu book, p. 106
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر کی اہمیت فلسفہ اور مذہب کا فکری میدان تقریباً ایک ہی ہے۔ دونوں کا مقصد حقیقت کی دریافت ہے۔ معلوم تاریخ کے مطابق، پانچ ہزار سال سے بھی زیادہ مدت سے دونوں کی سرگرمیاں جاری ہیں۔ مگر دونوں میں ایک عجیب فرق پایا جاتا ہے۔ فلسفہ لمبی مدت تک بہترین انسانی دماغوں کے ذریعہ غیر معمولی کاوش کرتا رہا۔ اس کے باوجود کوئی انسانی سماج تشکیل دینے میں اسے کبھی کامیابی نہیں ہوئی۔ اور نہ فلسفہ کی بنیاد پر کبھی کوئی قابل ذکر ریاست وجود میں آئی۔ حتی کہ فلسفہ کوئی مکمل فکری نظام بنانے میں بھی کامیاب نہ ہو سکا۔ اس کے برعکس مذہب کی بنیاد پر بار بار انسانی معاشرہ تشکیل دیا گیا ہے اور ریاست کی تنظیم وجود میں آئی ہے۔ خاص طور پر اسلام کی تاریخ بتاتی ہے کہ مذہب اسلام کی بنیاد پر عظیم انسانی سماج بنایا گیا اور نہایت طاقت ور ریاست کی تشکیل ہوئی ۔ انجام کے اعتبار سے دونوں کے درمیان اس فرق کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب فلسفہ کی داخلی فکری کوتاہی ہے۔ فلسفہ جس حقیقت کی تلاش میں ہے اس کو وہ کبھی دریافت نہ کر سکا، فلسفہ آج بھی اسی طرح تلاش حقیقت کے مرحلہ میں ہے جس طرح وہ اول روز تھا۔ شاعر کا یہ شعر مکمل طور پر فلسفہ کی تاریخ پر صادق آتا ہے : فلسفی سر حقیقت نتوانست کشود گشت راز دگر آں راز که افشاں می کرد اصل یہ ہے کہ انسان اپنی محدودیتوں کی وجہ سے حقیقت کو اس کی آخری صورت میں دریافت نہیں کر سکتا۔ جس طرح سورج کو براہ راست انسانی آنکھ سے دیکھنا ممکن نہیں، اسی طرح حقیقت کا براہ راست مشاہدہ بھی انسان کی استطاعت سے باہر ہے۔ سائنس نے انسان کی اس محدودیت کو تسلیم کر لیا۔ اس لیے کم از کم تکنیکل مفہوم کے اعت بارے سے سائنس کو یہ کامیابی ملی کہ وہ انسانی تمدن کی تشکیل کر سکے۔ مگر فلسفہ انسانی محدودیت کو تسلیم کرنے پر راضی نہ تھا۔ اس لیے وہ آخری انجام تک بھی نہیں پہنچا۔ وہ ہمیشہ کھوج کے مرحلہ میں باقی رہا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader