حمد الہی
Urdu book, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
حمد الہی سب سے بڑی لذت حقیقتِ اعلیٰ کا ادراک ہے۔ آدمی کے لیے سب سے زیادہ خوشی کا لمحہ وہ ہوتا ہے جب کہ وہ حقیقتِ اعلیٰ کی معرفت حاصل کرے اور اس کو اپنے لفظوں میں بیان کر سکے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو شریعت میں ”حمد“ کہا گیا ہے۔ خدا اس کائنات کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ اس لیے خدا کی دریافت کسی انسان کے لیے لذت و انبساط کا سب سے بڑا سر چشمہ ہے۔ آدمی جب اس حقیقتِ کبریٰ کو دریافت کرتا ہے تو اس پر ابہاج و انبساط کی ناقابلِ بیان کیفیت طاری ہوتی ہے۔ اس وقت اس کی زبان سے اعتراف کے جوربانی کلمات نکل پڑتے ہیں اسی کا نام حمد ہے۔ قرآن کی آیت (الحمد للہ رب العالمین) میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ موجودہ دنیا میں کسی انسان کی سب سے بڑی یافت یہ ہے کہ اس کو حقیقی معنوں میں الحمد للہ رب العالمین کہنے کی توفیق مل سکے۔ کوئی شخص اُس معرفتِ خداوندی کا تجربہ کرے جو آدمی کے اندرون کو ربانی نور سے روشن کر دیتا ہے اور اس کی زبان پر حمد و شکر کے نغمے جاری ہو جاتے ہیں۔ تاہم موجودہ دنیا میں ہر چیز ناقص و ناتمام حالت میں ہے۔ اس لیے یہاں جو چیز بھی انسان کو ملتی ہے وہ ناقص و ناتمام حالت میں ملتی ہے۔ اسی طرح معرفتِ الہی اور حمدِ خداوندی کی توفیق بھی موجودہ دنیا میں صرف ناقص صورت میں مل سکتی ہے۔ یہاں کسی انسان کے لیے معرفتِ کلی اور حمدِ کامل کی نعمت ملنا ممکن نہیں۔ یہ سب سے بڑی خوشی ان نادر روحوں کے لیے مقدر ہے جن کو اگلے مرحلۂ حیات میں جنت کا داخلہ دیا جائے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جنت میں اہلِ ایمان کہیں گے کہ الحمد للہ رب العالمین (الزمرہ)، اس سے مراد کلمہ حمد کا وہ اعلیٰ اور کامل اظہار ہے جس کا موقع صرف جنت کی کامل اور معیاری دنیا میں حاصل ہوگا۔ جنت کا انسان کامل ترین صورت میں حقیقت کا ادراک کرے گا۔ اس لیے وہ کامل ترین صورت میں کلمہ حمد کا اظہار کر سکے گا۔ یہ برتر لذت کی وہ قسم ہے جو صرف اہلِ جنت کے حصہ میں آئے گی۔ موجودہ دنیا میں جو لوگ آج کی سطح پر حمدِ خداوندی کا ثبوت دیں گے وہی وہ خوش قسمت لوگ ہیں جو آخرت کی دنیا میں کل کی سطح پر حمد خداوندی کی توفیق پائیں گے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader