خدا کا عقیدہ
Urdu book, p. 11
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں ارشاد ہوا ہے ـــــ اللہ، اس کے سوا کوئی خدا نہیں ۔ وہ زندہ ہے ۔ سب کو تھامنے والا۔ اس کو نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند۔ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرے۔ وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے۔ اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتے مگر جو وہ چاہے ۔ اس کی حکومت آسمانوں پر اور زمین پر چھائی ہوئی ہے ۔ وہ تھکتا نہیں ان کے تھامنے سے ۔ اور وہی ہے بلند مرتبہ، وہی ہے بڑا (البقرہ ۲۵۵) یہ بظاہر ایک بیان ہے ، مگر اسی کے ساتھ دہ عین دلیل بھی ہے۔ کیوں کہ قرآن کی اس آیت میں خدائے رب العالمین کا جو تعارف کیا گیا ہے وہی خدا کا واحد تعارف ہے ۔ جب یہ معلوم ہو جائے کہ اس کائنات کا ایک خدا ہے تو اس کے بعد اس میں کوئی شبہ نہیں رہتا کہ یہ خدا انہی صفات کا حامل ہے جس کا ذکر مذکورہ آیت میں کیا گیا ہے ۔ خدا ایک ہے اور ایک ہی ہو سکتا ہے ۔ وہ زندہ ہے ، اگر وہ زندہ نہ ہو تو کسی کو بھی زندگی نہ ملے ۔ خدا قیوم ہے ، اگر وہ قیوم نہ ہو تو کوئی بھی چیز قائم رہنے والی نہیں ۔ وہ نیند اور تھکن سے بالا تر ہے ، اگر ایسا نہ ہو تو سارا نظام کائنات درہم برہم ہو جائے ۔ وہی تمام چیزوں کا مالک ہے ۔ اس کے سوا کسی اور کے لیے ملکیت کا استحقاق ثابت نہیں ہوتا۔ اس کی حیثیت خداوندی کے منافی ہے کہ کوئی اس کے یہاں سفارش کے لیے کھڑا ہو سکے ۔ اس کا خدا ہونا ہی اس کے ثبوت کے لیے کافی ہے کہ وہ آگے اور پیچھے کی تمام چیزوں سے پوری طرح باخبر ہو۔ اس کے خدا ہونے کا یہ لازمی نتیجہ ہے کہ اس کے پاس تمام معلومات ہوں مگر دوسرا کوئی اس کی معلومات میں حصہ دار نہ بن سکے ۔ یہ عین فطری ہے کہ اس کا اقتدار تمام آسمانوں اور زمین کو اپنے گھیرے میں لیے ہوئے ہو۔ خدا کا خدا ہونا ہی اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ وہ تھکن جیسی کمزوریوں سے ماورا ہو ۔ جب وہ خدا ہے تو تمام بلندی بھی اسی کے لیے ہے اور تمام بڑائی بھی اسی کے لیے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader