چار مرحلے
Urdu book, p. 146
By Maulana Wahiduddin Khan
اور مدینہ میں صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاکمانہ حیثیت حاصل ہوگئی ۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللهِ اُسْوَہٌ حَسَنَة (الاحزاب (۲۱) یعنی تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں بہترین نمونہ موجود ہے۔ یہ نمونہ صرف آخری دور کے اعتبار سے نہیں ہو سکتا۔ ایسی حالت میں بعد کو آنے والے امتی ایسے دین کے مکلف ہو جائیں گے جس کی تکلیف نہ سابق انبیاء کو دی گئی، اور نہ خود پیغمبر اسلام اور اصحاب رسول کو۔ کیوں کہ واقعات بتاتے ہیں کہ ہر ایک کی تکلیف ہمیشہ تدرج کے اصول پر تھی۔ یعنی جیسے حالات، اس کے مطابق ذمہ داری۔ اس اصول کی روشنی میں صحیح بات یہ ہے کہ ہر دور کے اور ہر مقام کے امتیوں کو یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ دعوت نبوت کے کس مرحلہ میں ہیں۔ وہ اپنے آپ کو جس مرحلہ میں پائیں، اسی کے اعتبار سے وہ اللہ کے نزدیک مسئول قرار پائیں گے ۔ مثلاً کمیونسٹ ملکوں میں جو حالات تھے، وہ نبوت کے پہلے مرحلہ کے مشابہ تھے۔ ان ملکوں کے مسلمانوں پر وہی ذمہ داری تھی، جو مکی دور کے نصف اول کے مسلمانوں کی تھی۔ اگرچہ اب خود کمیونسٹ ملکوں میں مذہبی آزادی آچکی ہے۔ اور اب کہیں بھی پورے طور پر یہ حالات موجود نہیں ہیں۔ دوسرے مرحلہ نبوت کے لیے چین کی مثال دی جاسکتی ہے۔ یہاں وہ حالات پائے جاتے ہیں جو مکی دور کے مرحلہ ثانی میں پائے جاتے تھے۔ یہاں کے مسلمان اسی دور والے احکام کے مکلف ہیں۔ تیسرے مرحلہ کی ایک مثال موجودہ ہندوستان ہے۔ یہاں علی طور پر دو متوازی نظام قائم ہیں۔ ایک ملکی عدالت کا نظام ۔ دوسرا دار الافتاء اور دار القضاء کے شعبے جو علماء کے زیر نگرانی کام کر رہے ہیں۔ ہندوستان کے مسلمانوں کو وہ تقاضے پورے کرنے چاہئیں جو مدنی دور کے مرحلہ اول میں پائے جاتے تھے۔ چوتھے مرحلہ کی ایک مثال پاکستان ہے۔ پاکستان کے مسلمان حکماً ان تمام احکام کے مکلف ہیں جن کا مکلف مدنی دور کے نصف ثانی کے مسلمانوں کو کیا گیا تھا۔ یہ چار تقسیمیں بتاتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح پیغمبر کی زندگی میں ہر مرحلہ حیات کا قانون متعین کر دیا۔ یہ اس لیے ہوا تاکہ اللہ کے بندوں کو عصر سے بچایا جائے اور ان کو یہر (آسانی) کے ساتھ دین دار بننے کا موقع فراہم کیا جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader