Urdu book · عظمتِ اسلام

چار مرحلے

Urdu book, p. 17

By Maulana Wahiduddin Khan

چار مرحلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ نبوت کو عام طور پر دو دور میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ مکی دور اور مدنی دور۔ مگر یہ محض جغرافی تقسیم ہے۔ دعوتی مراحل کے اعتبار سے آپ کی مدت نبوت کو تقسیم کیا جائے تو وہ اس سے زیادہ قرار پائے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر خدا کی کتاب تدرتج کے ساتھ اتاری گئی۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ انکار کرنے والے کہتے ہیں کہ رسول کے اوپر پورا قرآن ایک ساتھ کیوں نہیں اتار دیا گیا۔ ایسا اس لیے ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے ہم تمہارے دل کو مضبوط کریں اور ہم نے اس کو ٹھہر ٹھہر کر اتارا ہے (الفرقنان ۳۲) اس آیت میں رتلناہ ترتیلا کی تفسیر شیئاً بعد شیئ کے لفظ سے کی گئی ہے یعنی ایک تعلیم کے بعد دوسری تعلیم اور ایک حکم کے بعد دوسرا حکم نازل کیا گیا۔ یہ وہی چیز ہے جس کو تدرتج کہا جاتا ہے۔ اس تدرتج کا لازمی تقاضا ہے کہ دعوت نبوت عملی اعتبار سے مختلف مراحل میں تقسیم ہو۔ اس اعتبار سے غور کیا جائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ نبوت چار بڑے مرحلوں میں تقسیم تھا (الجامع لاحکام القرآن (۲۹/۱۳) پہلا مرحلہ وہ ہے جو مکی دور کے نصف اول میں پیش آیا۔ اس مرحلہ کی خصوصیت یہ تھی کہ دعوت کا عمل محدود طور پر اخفاء کے ساتھ کیا جاتا تھا۔ حتیٰ کہ نماز بھی چھپ کر پڑھی جاتی تھی۔ دوسرا مرحلہ مکی دور کے نصف ثانی کا ہے۔ اس زمانہ میں علی الاعلان توحید کی دعوت دی گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان جاکر کہتے تھے کہ ایہا الناس، قولوالا الہ الا اللہ تفلحوا۔ صحابہ کرام جگہ جگہ لوگوں کو قرآن کے اترے ہوئے حصے پڑھ کر سناتے تھے۔ تیسرا مرحلہ مدنی دور کے نصف کا تھا۔ یہ وہ زمانہ ہے جب کہ مدینہ میں دو متوازی نظام قائم تھے۔ ایک یہودیوں کا جس کا سردار اعلیٰ کعب بن اشرف تھا ۔ دوسرا اہل اسلام کا جس میں رہنمائی اور قیادت کا مقام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل تھا۔ چوتھا مرحلہ مدنی دور کے نصف ثانی کا ہے۔ اس زمانہ میں یہود کی طاقت ختم ہوگئی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page