Urdu book · عظمتِ اسلام

اللہ اکبر

Urdu book, p. 14

By Maulana Wahiduddin Khan

اللہ اکبر اس کائنات کی اہم ترین حقیقت یہ ہے کہ اس کا ایک خالق ہے ، اور یہ خالق سب سے بڑا ہے۔ اس سے بڑا اور کوئی نہیں ۔ اذان اور نماز میں بار بار اللہ اکبر کہنا اسی سب سے بڑی سچائی کا مسلسل اعلان ہے ۔ اذان اور نماز کے ذریعہ گویا ہم کائنات کی سب سے بڑی حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں ۔ سب سے بڑی حقیقت کا اعتراف کوئی معمولی چیز نہیں۔ یہ خود اپنے آپ کو سب سے بڑے مقام کا مستحق بنانے کے ہم معنی ہے ۔ مغرب نے اس کا اعتراف کیا کہ کائنات سب سے بڑی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مغرب کو تمام قوموں کے مقابلہ میں سب سے زیادہ بڑی حیثیت حاصل ہوگئی۔ پھر جو لوگ کائنات کے خالق کی بڑائی کو پالیں ، ان کا حال کتنا عظیم ہونا چاہیے ۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمان ہر جگہ کمزور اور مغلوب ہیں۔ ہمارے حق میں " اللہ اکبر " کی وہ برکتیں ظاہر نہیں ہوتیں جو مغرب کے حق میں " الکون اکبر " کہنے کے نتیجہ میں ظاہر ہوئیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اللہ اکبر کے الفاظ کو پایا ۔ مگر ہم نے اس کی حقیقت کو نہیں پایا ہم اللہ اکبر کے الفاظ فضا میں بکھیرتے ہیں ۔ مگر خود اپنے اندر اسے داخل نہیں کرتے ۔ میں نے ایک عربی اخبار میں ایک مضمون پڑھا۔ اس کا عنوان تھا : اللہ اکبر في سماء لندن (لندن کی فضا میں اللہ اکبر کی آواز) یہ لندن کی جامع مسجد کا تعارف تھا۔ مضمون کے ساتھ لندن کی نو تعمیر عظیم مسجد کی تصویر رکھی اور دکھایا گیا تھا کہ یہاں سے ہر روز پانچ وقت " اللہ اکبر " کی آواز لاؤڈ اسپیکر پر بلند کی جاتی ہے جو لندن کی فضاؤں میں گونجتی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ لاؤڈ اسپیکر کی ایجاد نے ہمیں یہ موقع دیا ہے کہ ہم آسمان تک اللہ اکبر کی آواز کو پہنچا دیں، مگر خود اپنے سینہ کے اندر ہم اللہ اکبر کی آواز کو نہ پہنچا سکے ۔ آلہ مکبر الصوت کے ذریعہ ہم نے بلند فضاؤں میں اللہ اکبر کا ارتعاش پیدا کر دیا۔ مگر اس واقعہ کو ریکارڈ کرنے کے لیے ابھی خدا کے فرشتے انتظار کر رہے ہیں جب کہ خدا کی کبریائی کا احساس ہمارے دلوں میں ارتعاش پیدا کر دے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ اکبر کی برکتوں میں سے کوئی برکت ابھی تک ہمارے حق میں ظاہر نہیں ہوئی ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page